Al-Risala · March 2024 · page 19

سوال کی کثرت

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۴، صفحہ ۱۹

احساس ہو جائے تو وہ توبہ اور ندامت کا طریقہ اختیار کرے، جیسا کہ اس کے باپ آدم نے کیا تھا (البقرہ، 2:37)۔ وہ ایسا ہرگز نہ کرے کہ غلطی کے ارتکاب کے بعد اکڑ اور سرکشی میں پڑ جائے۔ اکڑ اور سرکشی ابلیس کا طریقہ ہے۔

غیبی امور کے بارے میں صحیح مسلک یہ ہے کہ ان کو جیسا ہے ویساہی مان لیا جائے۔ ان میں خوض اور تعمق سے پر ہیز کیا جائے۔

ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے آدم کو پیدا کیا اور جب ان کو پیدا کر لیا تو اس نے ان کے دائیں مونڈھے پر مارا۔ اس سے سفید اولاد نکالی۔ یہ سب چیونٹیوں کی مانند تھے۔ پھر اس نے ان کے بائیں کندھے پر مارا اور اس سے سیاہ اولاد نکالی۔ وہ گویا کہ کوئلہ تھے۔ پھر داہنے والوں کے متعلق فرمایا کہ وہ جنت کی طرف ہیں۔ اور مجھ کو پرواہ نہیں ۔ اور بائیں کندھے والوں کے متعلق فرمایا یہ دوزخ کی طرف ہیں، اور مجھ کو پرواہ نہیں (مسند احمد، حدیث نمبر 27488)۔

تشریح: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی نسل کی تخلیق باقاعدہ منصوبے کے تحت ہوئی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اس منصوبے کو سمجھے اور اس کی تعميل كركے اس کامیابی کو حاصل کر لے جو اس کے خالق نے اس کے لیے مقدر کی ہے۔ اس منصوبہ تخلیق کا مرکزی کردار انسان ہے، اور تخلیق کی منزل جنت (Paradise) ہے۔ جو کہ انسان کے لیے معیاری دنیا (ideal world) ہے۔ آغاز سے اختتام تک یہ ایک لمبا سفر ہے، جو مختلف مراحل سے گزرتا ہے، اور آخر کار وہ ابدی جنت تک پہنچتا ہے۔ خالق نے اپنے تخلیقی نقشہ کے مطابق، اُس دنیا کو ایک جوڑ دنیا (pair world) کی شکل میں بنایا ہے۔ ایک وہ دنیا جس میں ہم پیدا ہونے کے بعد رہتے ہیں۔ دوسری وہ دنیا جہاں ہم موت کے بعد چلے جاتے ہیں۔ انسانوں کو اُس کے پیدا کرنے والے نے ایک ابدی مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا ہے۔ مگر اِس نے اس کی زندگی کو دو مرحلوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ قبل از موت دور اور بُعد از

‹ Previous page Next page › Contents of March 2024 All issues

Printed page