Al-Risala · March 2024 · page 20

سوال کی کثرت

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۴، صفحہ ۲۰

موت دور ۔ موت سے پہلے کی دنیا آزمائشی مقام (testing ground) کے طور پر بنائی گئی ہے اور موت کے بعد کی دنیا دار الجزاء (world of reward) کے طور پر ۔

موجودہ دنیا چوں کہ ٹسٹ کے لیے بنائی گئی ہے اس لیے یہاں ہر عورت و مرد کو آزادی حاصل ہے۔ مگر یہاں دنیا میں موجود ہر چیز ناقص اور محدود صورت میں ہے۔ گویا کہ موجودہ دنیا ایک قسم کا اگرزمینیشن ہال (examination hall) ہے۔ یہاں ٹسٹ دینے کے بقدر ضروری سامان موجود ہیں مگر پرمسرت زندگی گزارنے کے لیے جو اعلیٰ چیزیں درکار ہیں وہ یہاں موجود نہیں۔ اگر زمینیشن ہال کے اندر کوئی طالب علم اپنی مطلوب زندگی کی تعمیر کرنا چاہے تو اس کو صرف مایوسی ہوگی۔ یہی مایوسی ان لوگوں کو ہورہی ہے جو موجودہ ٹسٹ کی دنیا میں اپنے مطلوب مستقبل کی تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ قبل از موت دنیا میں کسی عورت یا مرد کو کیا کرنا ہے کہ وہ بعد از موت دنیا میں اپنی مطلوب دنیا (desired world) پاسکے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ وہ اپنی آزادی کو خالق کے منشا کے مطابق استعمال کرے۔ ابونضرہ تابعی کہتے ہیں کہ اصحاب رسول میں سے ایک شخص جن کا نام ابو عبد اللہ تھا، ان کے پاس ان کے اصحاب عیادت کے لیے آئے۔ اس وقت وہ رو رہے تھے۔ انھوں نے ان سے پوچھا کہ تم کو کیا چیز رلارہی ہے۔ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے یہ نہ کہا تھا کہ اپنی مونچھیں كٹواؤ پھر اس کے پابند رہو یہاں تک کہ مجھ سے مل جاؤ۔ انھوں نے کہا کہ ہاں مگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے (اپنی مخلوق میں سے) ایک حصے کو اپنے داہنے ہاتھ کی مٹھی میں لیا اور (باقی) دوسرے حصے کو دوسرے ہاتھ کی مٹھی میں لیا۔ اور فرمایا کہ یہ اس کے لیے ہے اور یہ اُس کے لیے ہے اور مجھ کو پرواہ نہیں۔ ابو عبد اللہ صحابی نے کہا: اور میں نہیں جانتا کہ میں دونوں میں سے کس مٹھی میں ہوں۔ (مسند احمد، حدیث نمبر 17593)

تشریح: ”یہ اس کے لیے ہے اور یہ اُس کے لیے ہے (هذه لهذه، وهذه لهذه )“ کا مطلب یہ ہے کہ دائیں مٹھی والے جنت کے لیے ہیں اور بائیں مٹھی والے جہنم کے لیے۔ اس

‹ Previous page Next page › Contents of March 2024 All issues

Printed page