سوال کی کثرت
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۴، صفحہ ۲۱
حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ سچا مومن امید اور خوف کے درمیان جیتا ہے۔ کھلی بشارت بھی اس کی اس اندیشہ ناک حالت کو ختم نہیں کرتی۔ ایمان اللہ کی محبت اور خوف کا ایک ایسا مقام ہے جس میں آدمی اللہ سے ڈرتا ہے مگر اسی کی طرف بھاگتا ہے، اسی سے خوف محسوس کرتا ہے مگر وہ اسی سے پانے کی امید بھی رکھتا ہے۔ یہ ایک ایسا اضطراب ہے جو سراپا اطمینان ہے اور ایسا اطمینان ہے جو سرا پا اضطراب ہے۔ یہی وہ نفسیاتی حالت ہے جو مومن کے کردار کی تشکیل کرتی ہے۔ اللہ رب العالمین کی معرفت اور اس کے منصوبہ تخلیق کی دریافت انسان کے اندر امید اور خوف کی ایک ایسی ملی جلی کیفیت پیدا کر دیتی ہے جس میں بندہ کبھی یہ طے نہیں کر پا تا کہ ان دونوں میں سے کس کو فوقیت دے۔ یہ سب کچھ کر کے اپنے آپ کو کچھ نہ سمجھنے کا وہ اعلیٰ ترین احساس ہے جس میں آدمی کو صرف اپنی ذمہ داریاں یاد رہتی ہیں اور اپنے حقوق کو وہ بالکل بھول جاتا ہے۔ صحابی رسول ابو عبد اللہ کے الفاظ اسی حقیقت کا اظہار ہیں۔
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے آدم کی پشت (میں موجود تمام اولاد) سے نُعمان (عرفہ) میں عہد لیا۔ اس نے آدم کی پیٹھ سے ان کی ساری اولاد نکالی۔ پھر ان کو آدم کے سامنے چیونٹیوں کی طرح بکھیر دیا۔ پھر ان سے روبرو کلام کیا۔ فرمایا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں۔ انھوں نے کہا ہاں، ہم گواہ ہیں۔ تا کہ تم لوگ قیامت کے دن یہ نہ کہو کہ ہم اس سے غافل تھے۔ یہ کہو کہ شرک تو ہمارے باپ داداؤں نے کیا، ہم تو ان کے بعد کی نسل سے ہیں۔ کیا تو ہم کو اس پر ہلاک کرے گا ہے جو باطل پرستوں نے کیا۔ (مسند احمد، حدیث نمبر 2455) تشریح: اس حدیث میں جس معاملے کا ذکر ہے اس کا مطلب، دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ انسان کی فطرت میں خالق کا شعور پیدائشی طور پر رکھ دیا گیا ہے۔ اگر بالفرض کچھ لوگوں تک خدا کے دین کی دعوت براہِ راست طور پر نہ پہنچے تب بھی مذکورہ معاملے کی صورت میں وہ بالواسطہ طور پر ہر ایک کو پہنچ چکی ہے۔ اس بنا پر کسی بھی شخص کے لیے آخرت کی باز پرس سے بچنا ممکن نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2024 All issues