سوال کی کثرت
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۴، صفحہ ۲۲
ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ نے قرآن کی آیت: اور جب تمہارے رب نے اولاد آدم کی پشتوں سے ان کی ذریت کو باہر نکالا.... (7:172) کی تشریح میں کہا کہ اللہ نے ان کو جمع کیا پھر ان کو گروہ گروہ کیا۔ پھر انھیں صورت اور گويائي دی۔ پھر وہ بولے۔ پھر اللہ نے ان سے عہد اور میثاق لیا اور ان کو خود ان کے اوپر گواہ بنایا۔ اللہ نے کہا: کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں۔ انھوں نے کہا کہ ہاں۔ فرمایا کہ میں تمہارے اوپر سات آسمانوں اور سات زمینوں کو اور تمہارے والد آدم کو گواہ بناتا ہوں۔ تا کہ تم قیامت میں یہ نہ کہو کہ ہم کو اس کی خبر نہ تھی۔ جان لو کہ میرے سوا کوئی اور معبود نہیں اور نہ میرے سوا کوئی رب ہے۔ اور تم میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرانا۔ میں تمہارے پاس اپنے رسول بھیجوں گا۔ وہ تم کو میرا عہد اور میثاق یاد دلائیں گے۔ اور میں تمھارے اوپر اپنی کتابیں اتاروں گا۔ انھوں نے کہا کہ ہم گواہ ہیں کہ تو ہمارا رب ہے اور تو ہمارا معبود ہے۔ تیرے سوا کوئی اور ہمارا رب نہیں۔ پس انھوں نے اس کا اقرار کیا۔ اور آدم کو ان کے اوپر بلند کیا گیا۔ انھوں نے ان سب کو دیکھا۔ چنانچہ انھوں نے (ان کے درمیان) امیر اور فقیر اور خوب صورت، اور بدصورت دیکھے۔ تو آدم نے کہا کہ اے میرے رب تو نے اپنے بندوں کے درمیان برابری کیوں نہ رکھی۔ اللہ نے کہا کہ میں نے یہ چاہا کہ میرا شکر ادا کیا جائے۔ اسی طرح آدم نے ان کے درمیان پیغمبروں کو چراغوں کی مانند دیکھا، ان پر نور تھا۔ ان سے دوسرا خصوصی عہد رسالت اور نبوت کے متعلق لیا گیا۔ اسعہد کو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا ہے: اور جب ہم نے پیغمبروں سے ان کا عہد لیا اور تم سے اور نوح سے اور ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ بن مریم سے (33:7)۔ عیسیٰ بھی انھیں روحوں میں تھے ان کو مریم کی طرف بھیجا۔ حضرت ابی بیان کرتے ہیں عیسیٰ کی روح مریم کے منہ سے ان کے جسم میں داخل ہوئی تھی۔ (مسند احمد، حدیث نمبر 21232)
تشریح: پیغمبروں کا کام یاد دہانی ہے۔ خدا کو جو دین مطلوب ہے، اس کو پیشگی طور پر ہر انسان کی فطرت میں رکھ دیا گیا ہے۔ پیغمبر یا ان کی تبعیت میں داعی اس لیے اٹھتے ہیں تا کہ لوگوں کو
‹ Previous page Next page › Contents of March 2024 All issues