سوال کی کثرت
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۴، صفحہ ۲۳
ان کا فطری سبق یاد دلائیں اور ان کو اس عہد پر قائم ہونے کی تلقین کریں جو انھوں نے پیشگی طور پر اپنے رب سے لیا ہے۔ انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی فطرت کو آلودہ ہونے سے بچائے تاکہ وہ حق کی آواز کو سنتے ہی فوراً پہچان لے، اور حق کا ساتھی بن جائے۔
ابو درداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے واقع ہونے والی چیزوں کے بارے میں بات چیت کر رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم سنو کہ کوئی پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹ گیا ہے تو اس کو مان لینا۔ لیکن اگر تم یہ سنو کہ کسی شخص کی جبلت بدل گئی ہے تو تم اس کو ہرگز نہ ماننا۔ کیوں کہ جو شخص جس جبلت کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے وہ اسی کی طرف جائے گا۔ (مسند احمد، حدیث نمبر 27499)
تشریح: اصل یہ ہے کہ ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان ہمیشہ فرق (difference) رہتا ہے۔ کوئی بھی دو انسان یکساں نہیں ہو سکتے۔ خالق نے ہر مرد اور ہر عورت کو مسٹرڈفرنٹ اور مز ڈفرنٹ کے روپ میں پیدا کیا ہے۔ ڈفرنس خود فطرت کا لازمی حصہ ہے اور جب دو ڈفرنٹ لوگ باہم ملیں تو کامیاب زندگی کی ضمانت صرف یہ ہو سکتی ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ایڈجسٹ کر کے زندگی گزاریں۔ اس معاملے میں فریقین کے لیے ایڈجسٹمنٹ کے سوا کوئی اور آپشن (option) نہیں۔ یہ ایک تنوع (diversity) کا معاملہ ہے اور وہ ایک عظیم نعمت ہے۔ اس کی وجہ سے یہ ممکن ہوتا ہے کہ دو شخصوں کے درمیان تبادلہ خیال ہو اور ان کے اندر ذہنی ارتقاء کا عمل جاری ہو۔ اختلاف رائے پر مبنی تبادلہ خیال کے فائدے بے شمار ہیں۔ اس کے ذریعے انسان کو موقع ملتا ہے کہ وہ دوسرے کے فکری نتیجہ سے فائدہ اٹھائیں۔ اس سے زیر بحث مسئلہ کے نئے نئے پہلو سامنے آتے ہیں، اس سے انسان کی تخلیقی فکر میں اضافہ ہوتا ہے۔
اس لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ انسانی ذہن کے فطری فرق کو جان کر اس کا مثبت طریقے سے استعمال کیا جائے، نہ کہ اس کو بدلنے کی کوشش کی جائے۔ اگر فریقین میں مثبت مزاج ہو تو ڈفرنس
‹ Previous page Next page › Contents of March 2024 All issues