Al-Risala · March 2024 · page 24

سوال کی کثرت

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۴، صفحہ ۲۴

سے انٹلیکچول ایکسچینج پیدا ہوگا اور اس ایکسچینج سے انٹیلیکچول ڈیولپمنٹ کا عمل جاری ہوگا۔ یہی کسی قوم کی ترقی کا سب سے بڑا راز ہے۔ اس کے برعکس، کسی سماج یا گروہ میں تنوع کو ممنوع (taboo) قرار دینا صرف اس قیمت پر ہوتا ہے کہ وہ سماج یا گروہ جمود (stagnation) کا شکار ہوجائے۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بتاتی ہیں کہ میں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول آپ کو ہر سال اس زہریلی بکری کا اثر معلوم ہوتا ہے جو آپ نے کھائی تھی۔ فرمایا: مجھے اس کے سوا کچھ نہیں پہنچتا جو میرے مقدر میں اس وقت لکھ دیا گیا جب آدم اپنی مٹی میں (تیاری کے مرحلہ میں) تھے (سنن ابن ماجه، حدیث نمبر 3546)۔ تشریح: موجودہ دنیا امتحان کی مصلحت کے تحت چل رہی ہے۔ یہاں جو کچھ کسی کے ساتھ پیش آتا ہے وہ اسی مصلحت کے تحت پیش آتا ہے۔ مثال کے طور پر یہودی کا رسولِ خدا کو زہر دینا اور آپ کا اس زہر کو انجانے میں کھا لینا غالباً اس لیے تھا کہ یہودیوں کی اخلاقی حالت کو آخری حد تک برہنہ کیا جائے، تاکہ کھلے طور پر یہ ثابت ہو جائے کہ ان کو جو سزا دی جارہی ہے وہ فی الواقع اس کے مستحق ہیں۔ اس واقعہ کا تعلق یہودیوں کو ڈسکر یڈٹ کرنے سے تھا، نہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مذکورہ خوراک کھلانے سے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب میں تمام انسانوں کے لیے ایک اہم رہنمائی موجود ہے۔ یعنی منفی سوچ سے ذہن کو کیسے ڈائیورٹ (divert) کیا جائے۔ چنانچہ ایک صاحب سے أنا (ego) کے موضوع پر میری گفتگو ہوئی۔ میں نے کہا کہ ایگو کو ختم کرنا ممکن نہیں۔ البتہ اُس کو ڈیفیوز (diffuse) کیا جاسکتا ہے، یہی اسلام کا طریقہ ہے۔ اسلام آدمی کی سوچ کے اندر میں ایک انقلاب لاتا ہے۔ یہ سوچ اس بات کی ضامن بن جاتی ہے کہ جب بھی آدمی کی أنا بھڑکے تو اُس کی ربانی سوچ متحرک ہو کر اُس کی انا کے بم کو ڈیفیوز کر دے۔ میں نے کہا کہ أنا (ایگو) کوئی برائی نہیں، وہ ایک طاقت ہے۔ آپ کو صرف یہ کرنا ہے کہ اپنے ذہن کو اتنا زیادہ ترقی دیں کہ وہ أنا کو صرف اچھے استعمال میں لے، وہ اُس کو برے استعمال تک نہ جانے دے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2024 All issues

Printed page