Al-Risala · March 2024 · page 25

سی پی ایس کا مشن

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۴، صفحہ ۲۵

سی پی ایس کا مشن

ایک حدیثِ رسول مسند امام احمد میں ان الفاظ میں نقل کی گئی ہے: عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ النَّاسَ دَخَلُوا فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا، وَسَيَخْرُجُونَ مِنْهُ أَفْوَاجًا (مسند احمد، حدیث نمبر (14696) ۔ یعنی صحابی رسول جابر بن عبد اللہ نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ لوگ فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہو گئے عنقریب اسی طرح فوج در فوج وہ اس سے نکل جائیں گے۔

ایک شارح نے اس کی تشریح میں یہ الفاظ لکھے ہیں: وَذَلِكَ فِي آخِرِ الزَّمَانِ عِنْدَ وجود الأشراط (التيسير بشرح الجامع الصغیر، جلد 1، صفحہ 303)۔ یعنی یہ آخری زمانے میں ہوگا، قیامت کی نشانیوں کے وجود میں آنے کے وقت ۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حدیث دوا دوار سے تعلق رکھتی ہے ۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دور شرک تھا۔ اس وقت رسول اور اصحاب رسول کی دعوتی جدوجہد سے لوگ بڑی تعداد میں شرک سے نکل کر توحید کی طرف آئے۔

اس کے بعد وہ دور آیا، جس کی پیشگی اطلاع ان الفاظ میں کی گئی تھی: سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ (41:53)۔ یعنی عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں اور انفس میں۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے گا کہ یہ حق ہے۔ اس دور میں اہل اسلام کو یہ کرنا تھا کہ وہ آفاق وانفس کے دلائل (بہ الفاظ دیگر سائنسی دلائل ) کو استعمال کرتے ہوئے لوگوں کو دوبارہ توحید پر قائم کریں۔ مگر مسلمانوں نفرتِ مغرب کی وجہ سے اُس دور کو سمجھ نہیں سکے، اور پوری شدت کے ساتھ اس کے مخالف بن گئے، اور منفی ذہن کے ساتھ ٹکراؤ میں مشغول ہو گئے۔ ابتدائے اسلام میں واقعہ یہ ہوا کہ لوگ شرک سے نکل کر توحید میں آئے ۔ اس کے بعد ایک نیا دور آیا، یعنی سائنس کا دور ۔ لیکن جب سائنسی زمانہ آیا تو توحید اور شرک کا مساوات (equation) بدل چکا تھا۔ اب توحید کے مقابلے میں شرک نہیں تھا، بلکہ توحید کے مقابلے میں

‹ Previous page Next page › Contents of March 2024 All issues

Printed page