Al-Risala · March 2024 · page 26

سی پی ایس کا مشن

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۴، صفحہ ۲۶

انکار خدا یعنی الحاد کا زور تھا۔ اس وقت کرنے کا کام یہ تھا کہ الحاد کے مقابلے کے لیے مائنڈ کو ایڈریس کرنے والا مضبوط لٹریچر تیار کیا جاتا۔ تاکہ اگر جدید تعلیم یافتہ لوگوں کے ذہن میں مذہب کے خلاف کوئی کنفیوزن ہو تو وہ دور جائے۔ لیکن برعکس طور پر ہمارے علما نے جدید تعلیم یافتہ لوگوں پر ارتداد کا فتویٰ لگا دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جو لوگ مذہب کے بارے میں کنفیوزن کا کیس تھے، وہ دین سے بیزاری کا کیس بن گئے۔

ہندوستان کے ایک معروف عالم دین نے ایک کتاب شائع کی تھی، اس کا ٹائٹل تھا: ردۃ ولا ابابکر لھا (ایک ارتداد ہے، لیکن اس کے مقابلے کے لیے کوئی ابو بکر نہیں)۔ اس کتاب کے مصنف نے اس نئے دور کو ارتداد کا دور کہا تھا۔ لیکن مسلمانوں کے لیے عملاً وہ بے خبری کا دور تھا۔ اس زمانے میں مسلمانوں پر شکایت اور نفرت کا ذہن غالب تھا۔ اس لیے وہ اس دور کو سمجھ نہیں سکے۔ یہ سائنس کا دور تھا، جس کو قرآن میں آفاق وانفس کے ظہور کا دور کہا گیا تھا۔ قرآن کے بیان کے مطابق، یہ دور دین حق کی تبیین مزید (41:53) کا دور تھا۔ مگر بے خبری کی بنا پر پوری مسلم کمیونٹی اس دور کو مخالف اسلام دور سمجھ کر اس میں پیدا شدہ مواقع کو اوویل کرنے سے محروم ہورہ گئی۔ حالاں کہ وہ دین کی سائنسی تبیین کا دور تھا۔ مندرجہ بالا حدیث کو جب قرآن کی اس آیت کے ساتھ ملا کر سمجھا جائے تو اس سے گویا یہ معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائے اسلام میں شرک کا مقابلہ کرنے کے لیے مثبت طرز عمل اختیار کیا گیا تھا، یعنی دعوت کا طریقہ۔ جس سے لوگ فوج در فوج اسلام کی طرف آئے۔ یہی طریقہ الحاد کے مقابلے کے لیے اختیار کیا جائے، ایسا ہر گز نہیں ہونا چاہیے کہ فتویٰ لگا کر ایسے لوگوں کو دین سے دور کر دیا جائے۔

سی پی ایس انٹرنیشنل نے اس دور کو در یافت کیا، اور اس کی تردید کے بجائے دعوت کے نئے دور کے طور پر اس کو استعمال کیا۔ راقم الحروف نے بڑے پیمانے پر عصری اسلوب میں دعوتی لٹریچر تیار کیا ہے، جس کو سی پی ایس کے لوگ اردو، ہندی، انگریزی اور دوسری زبانوں میں چھاپ کر وسیع پیمانے پر پھیلا رہے ہیں۔ سی پی ایس کے تحت یہ کام بڑے پیمانے پر انجام دیا جارہا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2024 All issues

Printed page