Al-Risala · March 2024 · page 27

خواتین میں دعوت

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۴، صفحہ ۲۷

خواتین میں دعوت

عام طور پر ایسا ہے کہ لوگ دینی کام کے لیے کسی شخصیت کو اپنا رول ماڈل بنا لیتے ہیں۔ مثلاً کچھ لوگ ابن تیمیہ کو اپنا رول ماڈل بنائے ہوئے ہیں، اور کوئی غزالی کو رول ماڈل سمجھے ہوئے ہے، وغیرہ۔ پھر ہر ایک اپنے ماڈل کو واحد معیاری ماڈل مان کر اقدام کرتا ہے۔ لیکن جب وہ دیکھتا ہے کہ اس کا گول اس کے لیے اچیویبل (achievable) نہیں ہے تو شعوری یا غیر شعوری طور پر سمجھ لیتا ہے کہ وہ کوئی قابلِ ذکر کام نہیں کر سکتا۔

دوسرے الفاظ میں وہ اپنے عمل کا آغاز عملی اقدام سے کرتا ہے، نہ کہ افراد کی ذہن سازی سے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی گہری تحریک کا صحیح آغاز یہ ہے کہ پہلے افراد کی ذہن سازی کی جائے، اور جب ذہن پوری طرح بن چکا ہو تو اس کے بعد عملی اقدام کیا جائے۔ ذہن سازی کے بغیر اقدام کرنے کا مطلب، بغیر تیاری کے اقدام کرنا ہے، اور جو اقدام تیاری کے بغیر کیا جائے اس کا انجام پیشگی طور پر معلوم ہے، اور وہ ہے مکمل ناکامی۔

الرسالہ مشن نے اس معاملے میں ایک اچھی مثال قائم کی ہے۔ ہے۔ مز فہمیدہ خانم (پیدائش 1964) ایک سیدھی سادی گھریلو خاتون ہیں۔ وہ میری کتابیں مطالعہ کرتی ہیں، اور میری تقریریں سنتی ہیں، اور سی پی ایس کی ممبر ہیں۔ ایک مرتبہ ان کے دل میں یہ خیال آیا کہ وہ دعوت کا کام پوری طرح نہیں کر پا رہی ہیں۔ یہ سوچ ان کی زندگی کی انقلابی سوچ ثابت ہوئی۔ انھوں نے اس کے بعد دعا کی، اور اپنے تعلقات کی خواتین سے مل کر ایک واٹس ایپ گروپ بنایا، جس میں انھوں نے خواتین کے ساتھ الرسالہ مشن کی آئیڈیالوجی کی بنیاد پر ڈسکشن شروع کیا۔

یہ خواتین واٹس ایپ کے ذریعے جمع ہوئیں۔ اس میں نہ صرف انڈیا بلکہ انڈیا کے باہر کی خواتین بھی شامل ہیں۔ یہ لوگ روزانہ آپس میں دین اور آداب زندگی کے تعلق سے پہلے ایک سوال رکھتی ہیں، جو ان کو روزمرہ کی زندگی میں پیش آیا ہو۔ پھر اس پر وہ آپس میں ڈسکشن کرتی ہیں۔ یہ ڈسکشن

‹ Previous page Next page › Contents of March 2024 All issues

Printed page