خواتین میں دعوت
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۴، صفحہ ۲۸
قرآن وحدیث اور الرسالہ کے مضامین پر مبنی ہوتا ہے، یا ذاتی تجربات ومشاہدات پر۔ اسی کے ساتھ وہ یہ بھی کرتی ہیں کہ مہینہ میں ایک دن سی پی ایس اسکالرس ٹیم کے ساتھ سوال وجواب کی نشست رکھتی ہیں۔ اس سے ان کے بہت سے کنفیوزن دور ہوتے ہیں۔ اور دین کے بہت سے نئے گوشے کھلتے ہیں، اور ان کا انٹلکچول ڈیولپمنٹ ہوتا ہے۔
ٹیم کی ایک ممبر ڈاکٹر سفینہ تبسم (سہارن پور) نے ایک دن یہ تاثر دیا کہ آج میں ڈسکشن میں زیادہ حصہ نہیں لے سکی، مگر سارے میسجز کو پڑھ کر بہت اچھا لگا۔ آج کے ڈسکشن سے میرا ٹیک اوے (takeaway) یہ ہے کہ میں اپنے اور اپنی فیملی کے اندر ایجوکیشن اور انٹلکچول ڈیولپمنٹ پر فوکس کروں گی، اور اس کام کو اس طرح آگے بڑھاؤں گی کہ وہ اگلی نسل تک چلتا رہے۔
اس گروپ میں پوری دنیا کی سو سے زیادہ خواتین شامل ہیں، جو اپنا انٹلکچول ڈیولپمنٹ کر رہی ہیں، اور دعوت کے کام کو آگے بڑھا رہی ہیں۔ یہ واقعہ جب میں نے سنا تو مجھے ایک حدیث رسول یاد آئی۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں : جُعِلَتِ الْأَرْضُ كُلُّهَا لِي وَلِأُمَّتِي مَسْجِدًا وَطَهُورًا فَأَيْنَمَا أَدْرَكَْتَ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي الصَّلَاةُ فَعِنْدَهُ مَسْجِدُهُ وَعِنْدَهُ طَهُورُهُ (مسند احمد، حدیث نمبر (22137)۔ یعنی پوری زمین کو میرے لیے، اور میری امت کے لیے مسجد اور پاک بنادی گئی ہے۔ پس میری امت کے کسی فرد کے لیے جس مقام پر نماز کا وقت ہو جائے وہیں اس کے لیے نماز کی جگہ ہے اور وہیں اس کے لیے طہارت کا سامان۔
توسيعي اعتبار سے اس حدیث پر غور کیا جائے تو اس سے یہ خوش خبری معلوم ہوتی ہے۔ یعنی ایسا زمانہ آنے والا ہے، جب کہ مذہبی جبر کی حالت ختم ہو جائے گی، اور امت کے لیے پوری طرح یہ موقع ہوگا کہ وہ لوگ جس طرح مسجد میں آزادی کے ساتھ عبادت کرتے ہیں، اسی طرح آزادی کے ساتھ دنیا میں ہر جگہ عبادت اور دعوت کا کام انجام دے سکیں گے۔ یہاں تک کہ انٹرنیٹ کی ورچول دنیا (virtual world) میں بھی، یعنی فیس بک اور واٹس ایپ وغیرہ پر بھی۔ اور ایک دوسرے کے ساتھبآسانی رابطہ قائم کرنا ان کے لیے ممکن ہو جائے گا۔ سی پی ایس خواتین کا یہ کام بلاشبہ قابل تعریف ہے۔ ہر ایک عورت اور ہر ایک مرد موجودہ دور میں اس طرح دینی مشن کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2024 All issues