Al-Risala · March 2024 · page 29

جنت ماں کے قدموں کے نیچے

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۴، صفحہ ۲۹

جنت ماں کے قدموں کے نیچے

اسلام میں ماں (mother) کو بہت اعلیٰ مقام دیا گیا ہے۔ اس تعلق سے پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک مشہور حدیث یہ ہے : اَلْجَنَّةُ تَحْتَ أَقْدَامِ الْأُمَّهَاتِ (مسند الشہاب القضاعی، حدیث نمبر 119)۔ یعنی، جنت ماؤں کے قدموں کے نیچے ہے۔ یہ حدیث عام طور پر جس طرح سمجھی جاتی ہے وہ اس کے حقیقی مطلب کے بالکل برعکس ہے۔ اس حدیث کو اس طریقے سے لیا جاتا ہے جس میں ماں کو اعلیٰ مقام دیا گیا ہے۔ یعنی بچہ اگر جنت میں داخل ہونا چاہتا ہے تو وہ مکمل طور پر ماں کی فرمانبرداری کرے، اس کے بغیر بچہ کو جنت نہیں مل سکتی۔

مگر یہ اس حدیث کا درست مطلب نہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈیوٹی کانشس سوسائٹی کی تعمیر کی ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق، فرد کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے فرائض کو ادا کرے، وہ یہ نہ دیکھیں کہ دوسرے کیا کام کرتے ہیں۔ اس حقیقت کو رسول اللہ نے دوسرے مقام پر اس طرح بیان کیا ہے: ایک مومن کو اپنی ذمہ داری ادا کرنا چاہیے اور جہاں تک اس کے حقوق کا تعلق ہے، وہ اس کو خدا سے مانگے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 7052)۔ اس اصول کی بنیاد پر، ’’جنت ماں کے قدموں تلے واقع ہے‘‘ کا مطلب یہ ہوگا کہ بچے کے مقابلے میں ماں کی ذمہ داری بہت زیادہ ہے۔ یہ حدیث اصل میں ایک ماں کو مخاطب کرتی ہے۔ کیوں کہ بچے کی زندگی میں اس کا بہت اہم رول ہے۔ دوسرے الفاظ میں اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ایک انسان کے اندر جنت کا شوق پیدا کرنا ماں کے ہاتھ میں ہے۔ مولانا وحید الدین خاں صاحب لکھتے ہیں کہ ’’ماں کی حیثیت سے اپنی اولاد کے لیے اس کا سب سے بڑا کام یہ ہے کہ وہ اپنی اولاد کو ایک اچھا انسان بنانے کی کوشش کرے۔ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ پیدائش کے اعتبار سے ہر بچہ مسٹر نیچر ہوتا ہے، لیکن بعد کی کنڈیشنگ کے نتیجے میں ہر بچہ اپنی حقیقی فطرت سے دور چلا جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ماں کو اپنا تعمیری

‹ Previous page Next page › Contents of March 2024 All issues

Printed page