جنت ماں کے قدموں کے نیچے
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۴، صفحہ ۳۰
”کسی بچے کے تقریباً 10 سال وہ ہیں جن کو، نفسیاتی اصطلاح میں، تشکیلی دور (formative period) کہا جاتا ہے۔ یہ تشکیلی دور بے حد اہم ہے۔ کیوں کہ اس تشکیلی دور میں کسی کے اندر جو شخصیت بنتی ہے، وہ بے حد اہم ہے۔ یہی شخصیت بعد کی پوری عمر میں باقی رہتی ہے۔ “ ”ماں کی حیثیت سے عورت کا رول اگلی نسل کی تیاری ہے۔ انسان کی نسل ایک رواں دریا کی مانند ہے۔ انسانی سماج میں مسلسل ایسا ہوتا ہے کہ پچھلی نسل جاتی رہتی ہے اور نئی نسل اس کی جگہ لیتی رہتی ہے۔ ماں کا کام اسی نئی نسل کی تیاری ہے۔ ماں کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ ہر بار اگلی نسل کے لیے بہتر انسان بنا کر بھیجے ۔ بہتر انسان کون ہے ۔ بہتر انسان وہ ہے جس کے اندر زندگی کا حوصلہ ہو۔ جو منفی سوچ سے بلند ہو اور مثبت سوچ کا حامل ہو۔ جو اپنے ذہن کے اعتبار سے اس قابل ہو کہ وہ تعمیری بنیادوں پر زندگی کی منصوبہ بندی کر سکے۔ جو اپنے سماج کے لیے کوئی نیا پرابلم پیدا نہ کرے۔ جو اپنے سماج کا دینے والا ممبر (giver member) ہو، نہ کہ صرف لینے والا ممبر۔ “ بچے مستقل طور پر اپنی ماں کے ساتھ رہتے ہیں۔ اپنی زندگی کے ابتدائی زمانے میں، وہ اس کو سب سے زیادہ دیکھ رہے ہوتے ہیں اور غیر شعوری طور پر اپنی ماں کی نقل کرتے ہیں۔ مگر ماں جو کام بھی کرتی ہے، وہ اس کا سوچا سمجھا عمل ہوتا ہے۔ اس لیے ماں کو اس بات کا بہت زیادہ خیال رکھنا چاہیے کہ وہ جو کام بھی کرے وہ خدا کی رضا کے مطابق کرے ۔
جنت کی راہ ایک ایسی راہ ہے جو درست پلاننگ، تعلیم، تربیت، اور ناشکری کے بجائے شکر، بے صبری کے بجائے صبر اور خدا کی معرفت کی راہ ہے۔ اس بنا پر اس حدیث میں گویا ایک ماں کو یہ ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ اپنے بچے کو ایک اچھا انسان بنانے میں اپنا کردار ادا کرے ۔ یہ حدیث ماؤں کے لیے ایک سنجیدہ پکار ہے کہ وہ اپنی اہمیت کو سمجھیں اور اپنے اندر اعلی صفات پیدا کریں، کیوں کہ بچے اپنے تشکیلی دور میں سب سے زیادہ اپنی ماں کی پیروی کرتے ہیں۔ (ڈاکٹر فریدہ خانم)
‹ Previous page Next page › Contents of March 2024 All issues