Al-Risala · March 2024 · page 31

جنت ماں کے قدموں کے نیچے

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۴، صفحہ ۳۱

کامیابی کا پہلا قانون“ پرامید رہو، نا امید نہ بنو برطانوی طبیعیات دان اور ریاضی دان سر آئزک نیوٹن (1727-1642ء) حرکت کے قوانین (Laws of Motion) کی دریافت کے لیے مشہور ہے۔ اس کے دریافت کردہ حرکت کا تیسرا قانون کہتا ہے کہ اس دنیا میں ہر عمل کے لیے ایک مساوی اور مخالف رد عمل ہوتا ہے: for every action, there is an equal and opposite reaction. لیکن ایک اور قانون بھی ہے جس کا مشاہدہ خود نیوٹن کی زندگی میں کیا جا سکتا ہے۔ اسے کامیابی کا قانون کہا جا سکتا ہے۔ نیوٹن کے والد کا انتقال ان کی پیدائش سے تین ماہ قبل ہو گیا تھا۔ اس کی ماں نے جلد ہی دوسری شادی کرلی۔ نتیجتاً نیوٹن اپنے والدین کی شفقت سے محروم ہو گیا۔ نیوٹن کے ایک سوانح نگار لکھتے ہیں آئزک (نیوٹن) اپنے گھر میں ایک یتیم کی طرح سمجھا جاتا تھا، اس کا بچپن خوشگوار نہیں تھا: Basically, treated as an orphan, Isaac (Newton) did not have a happy childhood. نیوٹن کے لیے بظاہر یہ ایک مشکل صورت حال تھی۔ وہ چاہتا تو اپنے مائنڈ کو شکایتوں کا کباڑ خانہ بنا دیتا۔ لیکن حقیقت میں یہ ان کی زندگی کا سب سے بڑا پلس پوائنٹ بن گیا۔ بچپن کے دنوں میں خارجی دنیا نیوٹن کے لیے کوئی کشش نہیں رکھتی تھی ، اور وہ ہر وقت سوچ میں غرق رہتا تھا۔ اس بنا پر اسے خیالوں میں گم (Woolgatherer) ، یا بے دھیان انسان کہا جانے لگا۔ لیکن بعد میں پتہ چلا کہ نیوٹن بے دھیان انسان نہیں تھا، بلکہ وہ بہت زیادہ غور و فکر میں مشغول رہتا تھا۔ اسی مسلسل فکری عمل کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس نے حرکت کے تین قوانین کو دریافت کیا، جس سے سائنسی دنیا میں انقلاب پیدا ہو گیا۔ نیوٹن کے لیے والدین کی شفقت سے محرومی بظاہر ایک منفی واقعہ تھا، لیکن قانون فطرت کے مطابق ، یہ اس کے لیے فائدے کا سودا ثابت ہوا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ والدین کی شفقت سے محرومی نے اسے اپنی پوشیدہ فکری صلاحیت کو پروان چڑھانے کا موقع دیا، یعنی فکری صلاحیت کی ترقی۔ اس

‹ Previous page Next page › Contents of March 2024 All issues

Printed page