Al-Risala · March 2024 · page 32

جنت ماں کے قدموں کے نیچے

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۴، صفحہ ۳۲

طرح نیوٹن اپنی فکری ترقی کے نتیجہ میں اس قابل ہو گیا کہ وہ اپنی زندگی کے مائنس پہلو کو پلس میں تبدیل کر سکے۔

کامیابی کا یہ فطری قانون کسی ایک فرد کے لیے مخصوص نہیں ہے، بلکہ یہ موقع زمین پر بسنے والے تمام عورت ومرد کے لیے کھلا ہوا ہے۔ نیوٹن کی زندگی فطرت کے اس اہم قانون کا عملی مظاہرہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان کو اس کے خالق نے لامحدود پوٹینشل (potential) کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ اس پوٹینشل کو ایکچول (actual) بنانا صرف چیلنج کے حالات میں ممکن ہے۔ اگر چیلنج نہ ہو تو انسان کی شخصیت میں چھپے ہوئے امکانات ظہور میں نہیں آئیں گے، انسانی ارتقا کا عمل مکمل طور پر رک جائے گا، انسان اپنی تکمیل سے محروم رہ جائے گا۔

چیلنج سےکامیابی کی طرف اس کے سفر کو جمود یا مایوسی کے سوا کوئی اور چیز نہیں روک سکتی ہے۔ اگر وہ مایوس یا جمود کا شکار نہ ہو تو اس کی اپنی فطرت خود بخود اس کی رہنمائی کرے گی اور اسے ناقابل یقین حد تک ترقی کی منزل تک لے جائے گی۔ تاریخ میں ایسے لوگوں کی بہت سی مثالیں موجود ہیں جو اپنے ابتدائی عمر میں مختلف قسم کی پریشانیوں کا شکار ہو گئے ۔ اس کے باوجود انہوں نے اپنے آپ کو مایوسی سے دور رکھا، اور اپنی توانائی کو کسی با معنی مقصد کی طرف موڑ دیا۔ کچھ دنوں کے بعد وہ اعلیٰ کامیابی سے ہم کنار ہوئے جس کے بارے میں وہ اپنے ابتدائی دنوں میں سوچ کبھی نہیں سکتے تھے۔ اس کی ایک مثال انڈیا کے سابق صدر اے پی جے عبد الكلام (وفات 2015) ہیں۔

زندگی میں لوگوں کو اکثر نا خوشگوار حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر یتیمی، حادثات کا سامنا، مادی نقصان کو برداشت کرنا، تعلیم کا نامکمل رہنا، آبائی وراثت سے محروم ہونا، اچھی نوکری حاصل کرنے میں ناکامی، وغیرہ۔ لیکن وہ لوگ جوان ناکامیوں کے باوجود بھی ہمت نہیں ہارتے اور مثبت انداز میں مسلسل کوششیں جاری رکھتے ہیں، وہی آخر میں سپر کامیابی حاصل کرنے والے (super achiever) کے طور پر ابھرتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2024 All issues

Printed page