جنت ماں کے قدموں کے نیچے
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۴، صفحہ ۳۳
ڈائری 1986
آج مولانا شکیل احمد قاسمی (میرٹھ) سے ملاقات ہوئی۔ وہ میرٹھ کے ایک عربی مدرسہ میں صدر مدرس ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہاپوڑ میں شبِ برات (شعبان 1406ھ) کے دن جو فساد ہوا تھا وہ کس طرح ہوا تھا۔ اس کا قصہ یہ تھا کہ کچھ مسلمان سڑک پر آتش بازی کر رہے تھے۔ پڑوسی ہندو کے گھر میں چنگاریاں گئیں تو اس نے نکل کر مسلمانوں کو منع کیا۔ اس کے بعد مسلمان اور زیادہ زور کے ساتھ آتش بازی کرنے لگے۔ گویا وہ کوئی بہت بڑا اسلامی کام ہو۔ اب پڑوسی ہندو نے مزید شدت کے ساتھ منع کیا۔ مسلمانوں کو غصہ آ گیا اور ہندو کو مارنے لگے۔ اس کا لڑکا جس کا نام نریش تھا اس کو اتنا مارا کہ وہ زخمی ہو کر گر پڑا اور اسپتال جاتے جاتے مر گیا۔
اس کے بعد بستی میں فساد کی فضا پیدا ہو گئی۔ مگر حسن اتفاق سے مجسٹریٹ بہت اچھا تھا، اس نے سارے شہر میں پولیس پھیلا دی اور نہایت سختی کے ساتھ فساد کو کنٹرول کر لیا۔ مولانا شکیل احمد صاحب قاسمی نے بتایا کہ فساد اگر چہ وقتی طور پر رک گیا ہے، مگر مقامی ہندوؤں میں غم و غصہ باقی ہے۔ بظاہر اس کا امکان نہیں ہے کہ وہ اس کو بھول جائیں گے۔ کیوں کہ ان کے ایک نوجوان نریش کو مسلمانوں نے مار مار کر ہلاک کر دیا ہے۔
میں نے کہا کہ بظاہر یہ کچھ مسلمانوں کی حماقت ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کے براہِ راست ذمہ دار ہمارے قائدین ہیں۔ مسلم قائدین کا طریقہ یہ ہے کہ وہ پرجوش تقریریں کر کے مستقل طور پر مسلمانوں کو جذباتی بنائے ہوئے ہیں۔ وہ ہر معاملہ میں یک طرفہ طور پر ہندوؤں کو اور حکومت کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے دل میں برادرانِ وطن کے خلاف نفرت بھر گئی ہے۔ مزید یہ کہ جب اس طرح کے مسلمان بے جا طور پر مشتعل ہو کر مذکورہ قسم کی حرکتیں کرتے ہیں تو ہمارے قائدین کبھی ایسا نہیں کرتے کہ وہ مسلمانوں کو تنبیہ کریں۔ وہ ہمیشہ یک طرفہ طور پر ہندوؤں کو برا بھلا کہتے ہیں۔ ان سب باتوں کا یہ نتیجہ ہے کہ فساد کا سلسلہ کسی طرح ختم نہیں ہوتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2024 All issues