Al-Risala · May 2025 · page 7

پیس فل ایکٹوزم، وائلنٹ ایکٹوزم

الرسالہ، مئی ۲۰۲۵، صفحہ ۷

قرآن کی یہ آیتیں فہم دین کے لیے بہت زیادہ اہم ہیں۔ ان آیتوں میں جن نکات (points) کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ ان کو یہاں مختصر طور پر نمبر وار درج کیا جارہا ہے: 1۔ ان آیات سے پہلی بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ اللہ کی معرفت صرف ان لوگوں کو ملتی ہے، جو اپنی عقل (reason) کو استعمال کریں (لآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ)۔ آیت میں اولوالالباب کا لفظ ہے۔ اس کا مطلب ہے۔ اصحاب عقل یعنی جو لوگ اپنی عقل کو استعمال کر کے زمین و آسمان کی چیزوں (creation) میں غور کریں۔ گویا کہ معرفت الہی کسی پراسرار طریقے سے حاصل نہیں ہوتی، معرفت کے حصول کا ذریعہ صرف ایک ہے، اور وہ ہے عقل کو استعمال کر کے تخلیقی مظاہر میں غور و فکر کرنا۔ 2۔ دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ جب کسی انسان کو خدا کی معرفت (realization) حاصل ہوتی ہے تو وہ اس کی پوری شخصیت کا حصہ بن جاتی ہے۔ وہ ہر حال میں اس کے بارے میں سوچتا رہتا ہے (قِيَاماً وَّقُعُوداً وَّعَلَى جُنُوبِهِمْ)۔ انسان ایک فکری مخلوق ہے۔ کہا جاتا ہے کہ انسان ایک سوچنے والا حیوان (thinking animal) ہے۔ انسان کی سوچ ہی وہ عمل ہے، جو اس کی شخصیت کی تعمیر کرتی ہے۔ ربانی سوچ سے ربانی انسان بنتا ہے اور غیر ربانی سوچ سے غیر ربانی انسان۔ 3۔ اس معرفت کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ زندگی اور کائنات کی معنویت کو دریافت کر لیتا ہے۔ وہ یہ جان لیتا ہے کہ خدا کے خالق ہونے کا یہ لازمی نتیجہ ہونا چاہیے کہ آدمی خدا کے سامنے جواب دہ ہو (مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلاً سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ)۔ تخلیق اور جواب دہی (accountability) دونوں اس کو ایک حقیقت کے دو حصے نظر آنے لگتے ہیں۔ جس خدا نے انسان کو پیدا کیا ہے ۔ وہ لازماً ایک دن انسان کا محاسبہ کرے گا اور اس کے عمل کے مطابق ، اس کے لیے جزا و سزا کا فیصلہ کرے گا۔

4۔ اس معرفت کے نتیجے میں انسان کے اندر جو شعور پیدا ہوتا ہے۔ وہ اس بات کا ضامن ہوتا ہے کہ وہ حق کے داعی کو پہچان لے (إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِياً يُنَادِي لِلْإِيمَانِ أَنْ آمِنُوا بِرَبِّكُمْ فَآمَنَّا)۔ حق کے داعی کو نہ پہچاننے کا واحد سبب یہ ہے کہ آدمی کنڈیشننگ کا شکار ہو۔ معرفت آدمی کو

‹ Previous page Next page › Contents of May 2025 All issues

Printed page