Al-Risala · May 2025 · page 8

پیس فل ایکٹوزم، وائلنٹ ایکٹوزم

الرسالہ، مئی ۲۰۲۵، صفحہ ۸

اس قابل بناتی ہے کہ وہ کنڈیشننگ سے باہر آ کر چیزوں کو ویساہی دیکھ سکے جیسا کہ فی الحقیقت وہ ہیں۔ یہ صلاحیت آدمی کو اس قابل بنا دیتی ہے کہ وہ تعصبات ذہنی سے آزاد ہو کر کسی انسان کو پہچان لے ۔ اس طرح ، حق کی معرفت آدمی کے لیے حق کے داعی کی معرفت کا یقینی ذریعہ بن جاتی ہے۔ 5 ۔ جب ایک شخص کو معرفت والی زندگی حاصل ہوتی ہے تو اس کے بعد اس کا وہ حال ہوتا ہے جس کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: اَلدُّ نْيا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2956) ۔ یعنی، دنیا مومن کے لیے قید خانہ ہے۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ اس دنیا میں عارفِ حق کو غیر عارفین کے درمیان زندگی گزارنا پڑتا ہے۔ خدا پرست کو غیر خدا پرستوں کے ساتھ رہنا پڑتا ہے۔ آخرت پسند انسان کو ان لوگوں کے ساتھ رہنا پڑتا ہے جن کا کنسَرن صرف دنیا ہوتی ہے۔ اس صورتِ حال کی بنا پر ایک سچے مومن کو دنیا ایک قید خانہ کے مانند نظر آنے لگتی ہے۔ اس کی بہترین تمنا یہ ہوتی ہے کہ اس کو عارفین حق کے معاشرے میں رہنا نصیب ہو۔ اسی معاشرے کا نام جنت ہے۔ جب کسی شخص کو معرفت حاصل ہوتی ہے تو وہ عین اس کے فطری تقاضے کے مطابق، جنت کا طالب بن جاتا ہے۔ یہی مطلب ہے تَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ کا، یعنی ہمارا خاتمہ نیک لوگوں کے ساتھ کر۔ 6۔ آتِنَا مَا وَعَدْتَّنَا عَلَى رُسُلِكَ - ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبروں کے ساتھ اللہ کا جو معاملہ ہوتا ہے۔ اس میں پیغمبر کے سچے امتی بھی برابر کے شریک ہیں، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ یہ بلاشبہ بہت بڑی بشارت ہے۔ تاہم خدا کی یہ عنایت صرف ان لوگوں کے لیے مقدر ہے، جو کسی شرط کے بغیر پیغمبر کا اعتراف کریں اور کسی شرط کے بغیر اپنی عملی زندگی میں اس کی پیروی کریں۔ اللہ تعالیٰ کی یہ سنت جس طرح پیغمبر کے معاصرین کے لیے ہے، اسی طرح اس سنت کا تعلق بعد کے دور کے اُن لوگوں سے بھی ہے جو پیغمبر کے مشن کو زندہ کرنے کے لیے اُٹھیں، اور ساتھ دینے والے ان کا ساتھ دیں۔

7۔ اگلی آیت میں عامل کے عمل کا ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ حتمی وعدہ ہے کہ وہ سچے عامل کے عمل کو کبھی ضائع نہیں کرتا۔ یہ سنت مردوں کے لیے بھی ہے اور عورتوں کے لیے بھی (أَنِّى لَا أُضِيعُ عَمَلَ

‹ Previous page Next page › Contents of May 2025 All issues

Printed page