پیس فل ایکٹوزم، وائلنٹ ایکٹوزم
الرسالہ، مئی ۲۰۲۵، صفحہ ۹
عَامِلٌ مِنْكُمْ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى ) ۔ اللہ تعالی کی یہ سنت ایک سچے مومن کے لیے بلاشبہ سب سے بڑا سہارا ہے۔ حالات خواہ کتنے ہی سخت ہوں۔ اگر وہ حقیقتاً اللہ کے بتائے ہوئے راستے پر ہے تو اللہ کی طرف سے اس کے لیے ابدی طور پر یہ بشارت ہے کہ اِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَالَّذِينَ هُمْ مُحْسِنُونَ (16:128)۔ یعنی، بیشک اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو پرہیزگار ہیں اور جو نیکی کرنے والے ہیں۔ 8۔ اس کے بعد قرآن میں چند چیزوں کا ذکر ہے: ہجرت، وطن سے اخراج، اللہ کے راستے میں ستایا جانا اور قتال (فَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَأُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَأُوذُوا فِي سَبِيلِي وَقَاتَلُوا وَقُتِلُوا) ۔ یہ چاروں شرطیں لازما لفظی طور پر مطلوب نہیں ہیں۔ بلکہ وہ معنوی طور پر مطلوب ہیں۔ یعنی اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اہل ایمان کے ساتھ ہر زمانے میں شکل کے اعتبار سے عین ایسا ہی واقعہ پیش آئے گا کہ ان کو اپنا وطن چھوڑنا پڑے، وہ اپنے گھروں سے نکالے جائیں، ان کو جسمانی طور پر ستایا جائے، ان کو مسلح جنگ کرنا پڑے۔ یہ سب شرطیں حقیقی نہیں ہیں، بلکہ وہ اضافی ہیں۔ قدیم قبائلی دور (tribal-age) میں یہ واقعات شکلاً پیش آئے، لیکن موجودہ زمانہ آزادی اور جمہوریت کا زمانہ ہے۔ اب انسانی حقوق (human rights) کو عالمی طور پر مان لیا گیا ہے۔ اب بھی سچے اہل ایمان کے ساتھ یہ تجربات پیش آئیں گے ، مگر وہ بہ اعتبار حقیقت (spirit) ہوں گے، نہ کہ باعتبار صورت۔
* * * * * موت کا سبق موت ہر انسان پر اچانک آتی ہے۔ اس بنا پر انسان مجبور ہے کہ موت کے معاملے میں غیر یقینی حالت میں جیے ۔ یہ غیر یقینی حالت صرف موت کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ زندگی کے ہر پہلو سے متعلق ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ فطرت کے اس قانون کو قبول کرے، اور اس کے مطابق اپنی زندگی کی پلاننگ کرے۔ ورنہ وہ اس معاملے میں اپنے آپ کو ابدی نقصان سے بچا نہیں سکتا۔