Al-Risala · May 2025 · page 10

میدان کا انتخاب

الرسالہ، مئی ۲۰۲۵، صفحہ ۱۰

میدان کا انتخاب

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے جب آدم اور حوا کو پیدا کیا تو ان کو جنت میں آباد کیا۔ اللہ نے فرمایا کہ تم پوری جنت کو استعمال کر سکتے ہو، لیکن جنت کا ایک درخت تمھارے لیے شجر ممنوع (forbidden tree) کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس لیے تم دونوں اس درخت کے پاس مت جانا اور اس کا پھل مت کھانا ورنہ تم دونوں ظالم ہو جاؤ گے:

وَلَا تَقْرَبَا هَذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُونَامِنَ الظَّالِمِينَ Do not approach this tree lest you become wrongdoers (2:35)

یہ قصہ صرف آدم اور حوا کا ایک قدیم روایتی قصہ نہیں، اس میں پوری انسانیت کے لیے ایک ابدی سبق موجود ہے۔ یہ قصہ علامتی طور پر بتاتا ہے کہ انسان کے بارے میں اللہ کا تخلیقی منصوبہ (creation plan of God) کیا ہے اور یہ کہ اس تخلیقی منصوبے کے مطابق، ہر عورت اور ہر مرد کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے۔ ان کو ناکامی سے بچنے کے لیے اس دنیا میں کس طرح رہنا چاہیے۔ مگر عملاً یہ ہوا کہ آدم اور حوا نے اس ممنوع درخت کا پھل کھا لیا۔ ان سے یہ غلطی صرف ایک درخت کے بارے میں ہوئی تھی، مگر عملی نتیجہ یہ ہوا کہ وہ پوری جنت سے محروم ہو گئے۔ آدم اور حوا کا یہ قصہ انسان کے بارے میں خالق کے مقرر کردہ ایک اہم اصول کو بتاتا ہے۔ وہ یہ کہ ہر انسان اور ہر انسانی گروہ کے لیے ایک ممنوع درخت" (forbidden tree) ہوتا ہے۔ فرد اور جماعت دونوں کو چاہیے کہ وہ اپنے اس "ممنوع درخت" کو دریافت کریں اور اس سے کامل طور پر پرہیز کریں، ورنہ وہ لازمی طور پر اس کے برے انجام سے دوچار ہوں گے اور پھر کوئی چیز نہ ہوگی، جو ان کو اس تباہ کن انجام سے بچائے۔

اب اس معاملے کو فرد کی نسبت سے دیکھیے ۔ اس دنیا کو بنانے والے نے ایک خاص مقصد کے تحت اسے بنایا ہے۔ وہ یہ کہ یہ دنیا ایک انتخابی میدان (selection ground) ہے۔ اس دنیا میں مختلف قسم کے موافق اور ناموافق حالات کے درمیان آدمی کا امتحان لیا جا رہا ہے۔ اس مقصد

‹ Previous page Next page › Contents of May 2025 All issues

Printed page