میدان کا انتخاب
الرسالہ، مئی ۲۰۲۵، صفحہ ۱۱
کے تحت اس دنیا میں ہر عورت اور مرد کو ہر لمحہ کوئی نہ کوئی ناخوش گوار تجربہ پیش آتا ہے۔ آدمی اپنے مزاج کے اعتبار سے معیار پسند (idealist) ہے، مگر موجودہ دنیا میں ہر چیز غیر معیاری ہے۔ اس بنا پر عملاً یہ ہوتا ہے کہ آدمی اپنی بے شعوری کی بنا پر منفی سوچ (negative thinking) میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اس طرح وہ اپنے آپ کو جنت کے لیے غیر مستحق انسان بنا لیتا ہے۔
اس امتحان میں کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ ہر آدمی یہ دریافت کرے کہ سماجی زندگی میں اس کے لیے ”ممنوع درخت“ کیا ہے۔ اسے یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ جس ”درخت“ کو نہ پانے کی وجہ سے منفی سوچ میں مبتلا ہورہا تھا، وہ دراصل اس کے لیے ”ممنوع درخت“ کی حیثیت رکھتا تھا، اور اسے حاصل کرنا اس کے لیے فائدے کی بجائے نقصان کا سبب بنتا۔
افراد (individuals) کے بارے میں یہ المیہ پوری تاریخ میں پیش آیا ہے۔ تقریباً تمام انسانوں کا یہ حال ہورہا ہے کہ وہ تجرباتِ حیات کے دوران کسی نہ کسی اعتبار سے منفی نفسیات میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ وہ منفی سوچ میں جیتے ہیں اور منفی سوچ میں مرتے ہیں۔ کسی شخص کا یہ حال ہے کہ وہ اپنے خواہشات (desires) کی تکمیل (fulfilment) چاہتا تھا، مگر یہ تکمیل اس کو نہیں مل پاتی۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ مایوسی کی حالت میں جیتا ہے، اور مایوسی کی حالت میں اس دنیا سے چلا جاتا ہے۔ کسی نے آئیڈیل انصاف (ideal justice) کو ایک نشانہ بنایا، مگر وہ جدوجہد کے باوجود آئیڈیل انصاف نہ پاسکا، نتیجہ یہ ہوا کہ وہ فرسٹریشن کا شکار ہو کر رہ گیا۔ کسی نے یہ چاہا کہ وہ اسی دنیا میں اپنی جنت تعمیر کرے، مگر ساری کوشش کے باوجود وہ اپنی مطلوب جنت کی تعمیر نہ کرسکا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ صرف نا امیدی کا ایک کیس بن کر رہ گیا۔
افراد کے بارے میں یہ المیہ (tragedy) پوری تاریخ میں نظر آتا ہے۔ اس کا مشترک سبب یہ ہے کہ ہر انسان نے اپنے لیے ایک ایسی چیز کو حاصل کرنا چاہا جو خالق کے منصوبے کے مطابق ، اس کے لیے ”ممنوع درخت“ کی حیثیت رکھتا تھا، اس بنا پر وہ اس کے لیے قابل حصول ہی نہ تھا، اس صورت حال نے انسانی تاریخ کو عملاً انسانی تمناؤں کا ایک وسیع قبرستان بنا دیا۔ یہی معاملہ قوموں کا ہے۔ تاریخ میں بار بار یہ حادثہ پیش آرہا ہے کہ قو میں یا قوموں کے لیڈر