میدان کا انتخاب
الرسالہ، مئی ۲۰۲۵، صفحہ ۱۲
اپنے لیے ایسا نشانہ بناتے ہیں۔ جو اپنی حقیقت کے اعتبار سے ان کے لیے ناقابلِ حصول (unachievable) ہوتا۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ جو کرتے ہیں وہ اپنے انجام کے اعتبار سے ان کے لیے کاؤنٹر پروڈکٹیو (counter productive) ثابت ہوتا ہے۔ وہ بڑے بڑے حوصلوں کے ساتھ زندگی کا آغاز کرتے ہیں۔ اور آخر میں وہ مایوسی کا شکار ہو کر اس دنیا سے چلے جاتے ہیں۔ سکندرِ اعظم (Alexander the Great) 336 قبل مسیح میں یونان کا بادشاہ بنا۔ اس نے اپنے لیے ایک ناقابلِ حصول پولٹیکل نشانہ بنایا، یعنی یہ کہ وہ فوجی طاقت کے ذریعے ساری دنیا کو فتح کرے ۔ مگر عملاً یہ ہوا کہ وہ صرف 33 سال کی عمر میں شدید مایوسی کی حالت میں مرگیا۔ ہٹلر (Adolf Hitler, b. 1889) 1933 میں جرمنی کا چانسلر (Chancellor) مقرر ہوا۔ مگر اس نے اپنے لیے ایک ناقابلِ حصول سیاسی نشانہ بنایا، یعنی پورے یورپ میں جرمنی کا اقتدار قائم کرے ۔ مگر بڑے بڑے فوجی اقدامات کے باوجود وہ اپنا نشانہ پورا نہ کر سکا۔ یہاں تک کہ 1945 میں شدید مایوسی کی حالت میں اس نے خود کشی کر لی، جب کہ اس کی عمر ابھی صرف 56 سال تھی۔ اس طرح کی ایک مثال کمیونسٹ پارٹی کی ہے۔ کمیونسٹ پارٹی نے 1917 میں روس میں اقتدار حاصل کیا۔ اس کے بعد اس نے اپنے لیے ایک ناقابلِ حصول نشانہ بنایا، یعنی کمیونسٹ آئیڈیالوجی کو ساری دنیا میں ایکسپورٹ کرنا۔ اس مقصد کے لیے اس نے بہت فوجی کارروائیاں کیں۔ اسی سلسلے کا ایک واقعہ یہ تھا کہ اس نے 1979 میں افغانستان میں اپنی فوجیں داخل کر دیں ، مگر اس کا نتیجہ برعکس صورت میں نکلا 1991 میں خود کمیونسٹ ایمپائر (Soviet Union) ٹوٹ گیا، عالمی نقشے پر وہ سپر پاور کی حیثیت سے باقی نہ رہا۔
اسی نوعیت کی ایک مثال امریکا ہے۔ اس نے بھی یہی کیا کہ اپنے لیے ایک ناقابلِ حصول نشانہ بنایا۔ امریکا کے پولٹیکل لیڈر براک اوباما کو دوسری بار صدر امریکا منتخب کیا گیا۔ اس سلسلے میں واشنگٹن میں 22 جنوری 2013 کو ایک خصوصی تقریب منعقد کی گئی۔ اس موقع پر صدر اوباما نے ایک افتتاحی تقریر کی ۔ اس تقریر میں انھوں نے امریکا کی عالمی پالیسی کو دہراتے ہوئے کہا کہ ـــ امریکا ساری دنیا میں جمہوریت کو اپنی سپورٹ دیتا رہے گا: