میدان کا انتخاب
الرسالہ، مئی ۲۰۲۵، صفحہ ۱۳
We will support democracy from Asia to Africa, from the Americas to the Middle East. مگر واقعات بتاتے ہیں کہ امریکا کی یہ پالیسی اس کے لیے پوری طرح کاؤنٹر پروڈکٹیو (counter-productive) ثابت ہوئی ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکا ایک مضبوط قوم (strong nation) کی حیثیت سے ابھراتھا۔ امریکا کی اقتصادیات کو ایک مستحکم اقتصادیات سمجھا جاتا تھا،لیکن اب اکیسویں صدی میں امریکا نے اپنی یہ حیثیت کھودی ہے۔ امریکا کی مذکورہ خارجہ پالیسی نے اس کو صرف یہ تحفہ دیا کہ امریکا کی سپر پاور حیثیت دنیا کی نظر میں مشتبہ ہو گئی۔ اس معاملے میں خود ملت مسلمہ کا حال بھی یہی ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلم رہنماؤں نے اور ان رہنماؤں کی پیروی کرتے ہوئے تقریباً تمام مسلمانوں نے یہ فرض کر لیا کہ دنیا کی تمام قومیں ان کی دشمن ہیں، ہر جگہ ان کے خلاف سازش جاری ہے، ان کی حکومتوں کو توڑ اجارہا ہے، ان کے سیاسی دبدبہ کو ختم کیا جارہا ہے۔ اس سوچ کے تحت تمام دنیا کے مسلمان مفروضہ دشمنوں کے خلاف مفروضہ جہاد میں مشغول ہوگئے ۔ اس جہاد میں عملاً پوری ملت مسلمہ شامل ہے۔ کچھ لوگ انفعالی جہاد (passive jihad) کے طور پر اور کچھ لوگ عملی جہاد (active jihad) کے طور پر اس کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔ مگر اس معاملے میں ملت مسلمہ کا انجام بھی وہی ہورہا ہے، جو دوسری قوموں کا ہورہا ہے۔ یعنی تقریباً 200 سال کی جدوجہد اور قربانی کے باوجود ان کا مقصود حاصل نہیں ہوا، بلکہ یہ ہوا کہ ملت مسلمہ کی تباہی میں نا قابلِ تلافی حد تک اضافہ ہوگیا۔ اس کی ایک مثال فلسطین ہے۔ فلسطین میں 1948 میں تمام عرب اور غیر عرب مسلمانوں کی حمایت سے اسرائیل کے خلاف جہاد شروع ہوا، مگر نتیجہ برعکس صورت میں نکلا۔ 1948 میں جب جہادِ فلسطین شروع ہوا ۔ اس وقت فلسطین کا تقریباً نصف حصہ بشمول یروشلم (مسجد اقصیٰ اور بیت المقدس، وغیرہ) عربوں کے پاس تھا، مگر آج عربوں کے پاس فلسطین کا اتنا کم حصہ ہے، جو عملاً نہ ہونے کے برابر ہے۔
یہ الم ناک واقعات جو مسلمانوں اور دوسری قوموں کے ساتھ پیش آرہے ہیں۔ ان سب کا مشترک سبب صرف ایک ہے اور وہ ہے "ممنوع درخت" کے قانون فطرت کی خلاف ورزی کرنا۔ ہر قوم نے ایک ایسی منزل کی طرف رخ شروع کر رکھا ہے، جہاں پہنچنا اس کے لیے مقدر نہیں۔