میدان کا انتخاب
الرسالہ، مئی ۲۰۲۵، صفحہ ۱۴
اس عالمی مسئلے کا حل صرف یہ ہے کہ ہر فرد اور ہر قوم اپنے معاملے کا ازسرنو جائزہ لے۔ وہ خالق کے منصوبے کو سمجھے ، وہ غیر جانب دارانہ سوچ کے تحت یہ دریافت کرے کہ خالق کے منصوبے کے تحت اس کا ممنوع درخت (forbidden tree) کیا ہے اور پھر اپنی سابقہ غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے عمل کی نئی منصوبہ بندی کرے۔ وہ ممنوع میدان کو چھوڑے اور جو میدان اس کے لیے کھلا ہوا ہے، اس میں از سر نو اپنی جدوجہد کا آغاز کرے۔ یہی کامیابی کا واحد راز ہے۔ اس کے بغیر اس دنیا میں کسی کے لیے بھی کامیابی کا حصول ممکن نہیں ، نہ کسی فرد کے لیے اور نہ کسی قوم کے لیے۔ اس اصول کا خلاصہ مختصر طور پر یہ ہے : اپنے شجر ممنوعہ کو دریافت کرنا اور اس سے دوری اختیار کرتے ہوئے اپنے عمل کا منصوبہ بنانا۔
******* حاصلِ تجربہ میری عمر 66 سال ہوگئی۔ اگر مجھے بتانا ہو کہ میری پوری زندگی کے مطالعہ اور تجربہ کا آخری حاصل کیا ہے، تو میں کہوں گا کہ ــــ اللہ تعالیٰ نے انسان کی صورت میں ایک مسٹر تھنگ (Mr. Nothing) پیدا کیا اور اس کے اوپر (thing) کا پردہ ڈال دیا۔
انسان کے پاس بظاہر دماغ ہے، علم ہے، طاقت ہے، اسباب و وسائل ہیں۔ مگر یہ سب کا سب ظاہری پردہ ہے۔ اس پردہ کے اندر داخل ہو کر دیکھیے تو معلوم ہوگا کہ انسان کی کسی چیز کی کوئی حقیقت نہیں ۔ اس میں شک نہیں کہ انسان کا ایک علیحدہ وجود ہے۔ اس کا یہ علیحدہ وجود دنیا سے لے کر آخرت تک باقی رہے گا۔ انسان کا سارا معاملہ سراسر اللہ کی ذات پر منحصر ہے۔ دنیا میں بھی اگر وہ کچھ پاتا ہے تو وہ اللہ کے دیے سے پاتا ہے۔ اور آخرت میں بھی وہ جو کچھ پائے گا اللہ کے دیے سے پائے گا۔ انسان کے پاس ارادہ ہے مگر حسب ارادہ نتیجہ ظاہر کرنے کی اس کے اندر طاقت نہیں۔ انسان کے پاس فکر ہے، مگر حالات کے اوپر اس کا کنٹرول نہیں۔ اس کو چاہنے کا اختیار ہے، مگر اس کو کرنے کا کوئی اختیار نہیں۔ (ڈائری ، 26 فروری 1990)