خدا کی رحمت
الرسالہ، مئی ۲۰۲۵، صفحہ ۲۰
جب دوسرے کے دکھ سے آپ کو دکھ اور دوسرے کے سکھ سے آپ کو سکھ ہوتا ہے، جب آپ دل کی سچائی کے ساتھ ان کاموں میں سے کوئی کام کرتے ہیں جن کو بندوں کے حقوق کی ادائیگی کا نام دیا گیا ہے تو یہ سب اسی خدائی بارش کے چھینٹے ہوتے ہیں جو آپ کے اوپر اس کی رحمت خاص سے برستے ہیں۔ ہم سب مسلمان ہیں اور یہ خوشی کی بات ہے کہ ہم مسلمان ہیں۔ مگر یاد رکھیں مسلمان ہونا یا مسلمان گھر میں پیدا ہونا صرف یہ معنی رکھتا ہے کہ آپ کو ایمان و اسلام کی زمین حاصل ہے۔ مگر ہر کسان جانتا ہے کہ صرف زمین کا مالک ہونا کافی نہیں۔ بلکہ اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ اس زمین کو پانی کی سہولتیں حاصل ہوں۔ صحرا میں ہر طرف زمین ہی زمین ہوتی ہے مگر وہ کھیتی کے لیے بیکار ہے۔ وہاں ہری بھری فصل کے بجائے ہر وقت ریت اڑتی رہتی ہے۔ کیوں؟ اس لیے کہ وہاں پانی کا ایک قطرہ نہیں۔ ایک کسان کے لیے صرف یہ بات کافی نہیں ہے کہ اس کے پاس کھیت ہیں، خواہ وہ کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں۔ کھیت سے فصل اگانے کے لیے ضروری ہے کہ پانی اس کھیت تک پہنچے۔ سوکھا کھیت اسی وقت لہلہاتی ہوئی فصل کی صورت میں بدلتا ہے، جب وہ پانی سے سیراب ہوتا ہے۔
اسی طرح ہمارے لیے صرف یہ بات کافی نہیں کہ ہم ایمان و اسلام کو ماننے کا زبانی دعویٰ کریں۔ اس کے ساتھ لازمی طور پر یہ بھی ضروری ہے کہ ہماری اسلامی زمین پر خدا کی توفیق کی بارش بھی ہو رہی ہو۔ ہمارے دل میں اللہ سے خوف ومحبت کی وہ بوندیں ٹپکیں، جو آدمی کے اندر ربانی ہلچل پیدا کرتی ہیں اور اس کو نیک کام کرنے پر ابھارتی ہیں۔ ہم میں سے ہر شخص کو یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ خدا کی اس بارش میں اس کو حصہ مل رہا ہے یا نہیں۔ اس کے اوپر رحمتوں کا وہ فضل برس رہا ہے یا نہیں جس سے خدا کے پسندیدہ اعمال کا شوق پیدا ہوتا ہے۔ اگر اس روحانی بارش کی بوندیں آپ کے اوپر ٹپک رہی ہیں تو خدا کا شکر ادا کریں کیونکہ یہ سب سے بڑی نعمت ہے جو اس دنیا میں کسی کو ملتی ہے۔ اور اگر اس بارش کے چھینٹے آپ کی ہستی کو نم نہ کر رہے ہوں تو آپ کو اس سے زیادہ بے چینی ہونا چاہیے جتنا کوئی کسان اس وقت بے چین ہوتا ہے جب بادل اس کی زمین پر بارش برسانے سے رک گئے ہوں۔ کیونکہ بادلوں والی بارش کسی کو صرف ایک سال کے غلہ سے محروم کرتی ہے، جب کہ توفیق