Al-Risala · May 2025 · page 21

خدا کی رحمت

الرسالہ، مئی ۲۰۲۵، صفحہ ۲۱

عمل کی بارش کا رکنا آدمی کو اس سخت ترین اندیشہ میں مبتلا کر دیتا ہے کہ وہ آخرت کی ابدی زندگی میں گھاٹا اٹھانے والوں میں سے ہو جائے۔

کوئی آدمی نماز، روزہ اور اس طرح کے دوسرے اعمال کر رہا ہے، مگر ان کی حیثیت اس کے لیے ایسی ہے جیسے کچھ بے روح رسم ہو جس کو وقتاً فوقتاً ادا کر لیا جائے، تب اس کو مطمئن نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ وہی عمل اسلامی عمل ہے جس کے ساتھ آدمی کے دل کی دھڑکنیں شامل ہو جائیں، جس کے اندر اس کی روح کی تڑپ گھل مل گئی ہو۔ جو عمل آدمی کی زندگی کا محض ایک خشک ضمیمہ (index) ہے وہ محض ایک بے فائدہ رسم ہے جس کی کوئی قیمت نہ دنیا میں ہے نہ آخرت میں۔

ہم میں سے ہر شخص کو اس اعتبار سے اپنا جائزہ لینا چاہیے۔ اگر بارش برسانے والے بادل رک جائیں تو ہم استسقا کی نماز پڑھتے ہیں۔ لوگ پانی حاصل کرنے کے دوسرے طریقوں کی طرف دوڑنا شروع کرتے ہیں۔ اسی طرح توفیق عمل کی بارش رکنے پر آپ کو چوکنّا ہو جانا چاہیے۔ آپ کو خدا سے دعا اور التجا کرنا چاہیے کہ وہ آپ کو اپنی نعمت توفیق سے محروم نہ کرے۔ اگر آپ کو زندہ عبادت کی توفیق نہ مل رہی ہو، اگر خدا کی راہ میں خرچ کرنے کا شوق آپ سے رخصت ہو گیا ہو، اگر دوسروں کا بھلا دیکھ کر آپ خوش نہ ہوتے ہوں، اگر اپنے بھائیوں کی خدمت کرنے کا جذبہ آپ کے اندر نہ ابھرتا ہو، اگر آپ اپنے فائدے کے پیچھے دوسرے کا نقصان بھول جاتے ہوں، اگر اپنے صاحب معاملہ کے ساتھ انصاف کرنا آپ کو گوارا نہ ہوتا ہو، کسی سے شکایت پیدا ہونے کے بعد اگر آپ اس کو معاف کرنے پر راضی نہ ہوتے ہوں، اگر اس طرح کی باتیں ہوں تو سمجھ لیں کہ آپ کے ایمان کی زمین سوکھی پڑی ہوئی ہے۔ آپ کے اوپر اللہ اپنی توفیق کی بارش نہیں برسا رہا ہے۔ خدا کی رحمتوں سے محرومی نے آپ کے اندر اسلام کے پودے کو خشک کر دیا ہے۔ اسی طرح آپ کو اس وقت بھی بے چین ہو جانا چاہیے جب آپ اپنا یہ حال پائیں کہ آپ انہی دینی کاموں میں رغبت رکھتے ہوں جن سے آپ کی دنیا کو کوئی نقصان نہ ہو، جس میں آپ کے مادی مفادات پوری طرح محفوظ رہتے ہیں، جس میں سستی قیمتوں پر جنت کے دروازے کھلتے ہوئے نظر آتے ہیں، جس میں کچھ کیے بغیر کرنے کا تمغہ مل جاتا ہے، جس میں الفاظ بول کر عمل کا کریڈٹ حاصل

‹ Previous page Next page › Contents of May 2025 All issues

Printed page