Al-Risala · May 2025 · page 40

ذکر اللہ

الرسالہ، مئی ۲۰۲۵، صفحہ ۴۰

اور خلافت بھی عین جمہوری ہے۔ اس کو چھوڑ دیجیے کہ جمہوری نمائندے قانون سازی بھی کرتے ہیں، وہاں تک نہ جائیے۔ لیکن یہ کہ افراد حکومت کس طرح منتخب ہوں، جمہوریت اس کا نام ہے۔ اسلام کا نظام خلافت عین جمہوری تھا۔ یہ بے کار بحثیں ہیں اور یہ ان لوگوں نے شروع کر رکھی ہیں جنہوں نے نظام کو نشانہ بنا رکھا ہے اور فرد سازی کے کام کو عملاً ترک کر دیا ہے۔

سوال: آپ نے مولانا مودودی مرحوم کی فکر پر یہ اعتراض کیا کہ اس میں دین کے اصل محور کو بدل دیا گیا ہے۔ اور سیاست، جو کہ دین کا ایک تقاضا ہے اسے کل دین قرار دے دیا گیا۔ آپ نے اس کو ’’تعبیر کی غلطی‘‘ قرار دیا اور ایک متوازن فکر پیش کرنے کا دعویٰ کیا۔ لیکن بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ردعمل میں آپ نے ایک دوسری انتہا کو چھولیا اور دین کی ایک ایسی تعبیر کر ڈالی جس کو قبول کر لینے کے بعد ایک مسلمان امور مملکت یا امور سیاست میں فعال کردار ادا کرنے کے قابل نہیں رہتا۔ جواب: جن لوگوں نے مجھ پر یہ اعتراض کیا ہے، ان کو چاہیے کہ وہ اپنے دلائل بھی دیں۔ یہ ایک مجرد بیان ہے کہ میں ایک دوسری انتہا تک پہنچ گیا ہوں۔ میں نے ایک فکر پر اعتراض کیا، اس کی غلطی واضح کرنے کے لیے دلائل دیے اور اس کے متوازی ایک دوسرا فکر پیش کیا۔ اب میرے فکر کو غلط ثابت کرنے کے لیے دلائل کی ضرورت ہے۔ میں جانتا ہوں جو صاحب یہ اعتراض کرتے ہیں، لیکن انھوں نے کوئی دلیل تو دی نہیں۔ بس ایک بیان دے دیا ہے۔ اب ان کے بیان پر کیا بیان دیا جائے۔ سوال: مولانا، بعض لوگ آپ پر طرح طرح کے الزامات عائد کرتے ہیں۔ یہ کہ کرنل معمر قذافی آپ کی مالی امداد کرتے ہیں، یہ کہ حکومت بھارت آپ کی سرپرستی کرتی ہے، یہ کہ آپ کا’’الرسالہ‘‘ حکومت ہزاروں کی تعداد میں خرید کر مفت تقسیم کرتی ہے؟

جواب: یہ صد فیصد جھوٹ ہے۔ آپ جس سطح پر بھی جانچ کر لیں۔ آپ چاہیں تو میرے اکاؤنٹ کو چیک کر لیں، میرے پاس جو کچھ ہے Accounted Money ہے، جس کا باقاعدہ آڈٹ کیا جاتا ہے۔ حسابات میں لکھا ہوا ہے کہ میں نے مکان کہاں سے خریدا اور گاڑی کیسے خریدی۔ آپ نے لیبیا کی بات کی ہے۔ کیا ’’الرسالہ‘‘ میں قذافی کی تبلیغ ہوتی ہے؟ قذافی لیبیا کا ڈکٹیٹر ہے اور میں صبر

‹ Previous page Next page › Contents of May 2025 All issues

Printed page