ذکر اللہ
الرسالہ، مئی ۲۰۲۵، صفحہ ۴۱
اور اعتراض کی بات کرتا ہوں۔ کیا قذافی مجھے اس لیے پیسہ دے گا کہ میں اس کے الٹ تبلیغ کروں؟ اگر کوئی میری اس دلیل سے مطمئن نہ ہو تو میں مباہلہ کے لیے تیار ہوں۔ جن صاحب کو اعتراض ہے، وہ مسجد میں میرے ساتھ آ جائیں۔ میں یہ کہنے کے لیے تیار ہوں جس شخص نے قذافی سے پیسہ لیا، اس پر اللہ کی لعنت ہو، وہ اللہ کی رحمت سے محروم ہو جائے، اس کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت نہ ملے، حوض کوثر پر حضور اس کو پانی نہ پلائیں۔ میں بھی یہ کہتا ہوں اور وہ صاحب بھی یہ کہیں۔ ہاں البتہ یہ ضرور ہے کہ میں وہاں کانفرنسوں میں جاتا ہوں۔ ایک مرتبہ ایک عرب نے یہی اعتراض کیا تو میں نے ان کو وہ تقریریں دکھا دیں جو میں نے وہاں کی تھیں، چونکہ کانفرنسوں کے بعد ایسی تقریریں شائع کردی جاتی ہیں۔ ان تقریروں میں میرا موضوع وہی ہوتا ہے جس کا "الرسالہ" میں ذکر ہوتا رہتا ہے۔ کوئی ثابت کر دے کہ میں نے کبھی قذافی کی تعریف کی ہو یا اس کے حق میں تقریر کی ہو؟ سوال: اور انڈیا کی سرپرستی کا معاملہ کیا ہے؟
جواب: یہ بھی جھوٹ ہے۔ کوئی ثابت کرے کہ حکومت بھارت میرا پرچہ اس طرح خریدتی ہے۔ میں انڈیا میں رہتا ہوں، لیکن میں آج تک حکومت کے کسی آدمی سے ملاقات کرنے نہیں گیا۔ کسی گورنر، وزیر، صدر کو نہیں ملا۔ حالانکہ ان سے ملاقات میرے لیے مشکل نہیں۔ یہ صحیح ہے کہ حکومت کے لوگ میرا پرچہ پڑھتے ہیں، جس طرح دوسرے پرچے پڑھتے ہیں۔ لیکن حکومت سے میرا کوئی تعلق نہیں اور نہ میں نے حکومت سے کوئی پیسہ لیا ہے۔ اگر کوئی یہ ثابت کر دے تو میں لکھ کر دینے کو تیار ہوں کہ میں اپنے مرکز کو آگ لگا دوں گا۔ جی ہاں، اگر کوئی یہ ثابت کر دے کہ میں حکومت سے امداد لیتا ہوں تو میں اپنے مرکز کو خود آگ لگا دوں گا۔ اس کے لیے بھی میں مباہلہ کو تیار ہوں۔ سوال: آپ کی کوٹھی، کار کا ذکر بھی ہوتا رہتا ہے؟
جواب: جیسا کہ میں نے عرض کیا، میرے پاس Accounted Money ہے۔ میرے اکاؤنٹ کا آڈٹ بھی وہی صاحب کرتے ہیں جو جماعت اسلامی کے آڈیٹر ہیں، مقصود عالم صاحب۔ وہ میرے اور جماعت اسلامی ہند کے حسابات دیکھتے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ آڈیٹر کو سب معلوم ہوتا ہے ۔ جن کو شبہ ہے ان صاحب سے معلوم کرلے۔ (بشکریہ: زندگی، لاہور، ستمبر 1991)