Al-Risala · May 2025 · page 43

27 جون 1986

الرسالہ، مئی ۲۰۲۵، صفحہ ۴۳

مفید استعمال کر سکتے تھے۔ اگر آپ مجھے اس مسئلہ میں شروع سے دخیل فرما دیتے تو میرے خیال سے نوعیت ہی اس وقت کچھ اور ہوتی۔

عجیب بات ہے کہ ان معاملات میں میرے سوچنے کا انداز اس سے سراسر مختلف ہے، جو ہمارے مذکورہ ساتھی کے خط میں نظر آتا ہے۔ یہ واقعات بلا شبہ ضیاع کے واقعات تھے۔ مگر ان کے ذریعہ مجھے ایک بہت بڑی دریافت ہوئی۔ ان واقعات نے مجھے ایک ایسی حقیقت کو سمجھنے میں مدد دی، جو اس سے پہلے شعوری طور پر مجھ پر واضح نہ تھی۔

ان واقعات پر غور کرنے کے بعد میں نے جانا کہ اگر مجھے اصل واقعہ سے کچھ پہلے معلوم ہو گیا ہوتا کہ میرے مخالفین اس معاملہ میں کیا سوچ رہے ہیں تو میں بروقت اقدام کر کے یقینی طور پر اس کا دفعیہ کر سکتا تھا۔ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ آبائی زمین یا مرکز کی ایک عمارت کے بارے میں کوئی شخص قبضہ کا منصوبہ بنا رہا ہے تو میں اس کو پہلے ہی فروخت کر دیتا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس تجربہ کے بعد ہی میری سمجھ میں وہ آیت آئی جس کے الفاظ یہ ہیں:

وَلَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ (7:188)۔ یعنی، اگر میں غیب کو جانتا تو میں بہت سے فائدے اپنے لیے حاصل کر لیتا اور مجھے کوئی نقصان نہ پہنچتا۔

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں فائدہ حاصل کرنے کا خاص مدار اس پر ہے کہ آدمی غیب کو جانتا ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو غیر معمولی فتوحات حاصل ہوئیں، اس کا خاص الخاص راز یہی تھا۔ سیرت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بار بار اپنے پیغمبر کو مخالفین کی خفیہ تدبیروں سے باخبر کرتا رہا۔ اس طرح آپ ان کے اقدام سے پہلے ان کے منصوبے سے آگاہ ہو گئے اور پیشگی کارروائی کر کے ان کے خفیہ منصوبوں کو نا کام بنا دیا۔

مذکورہ ساتھی ایک مخلص آدمی ہیں۔ میں ان کی قدر کرتا ہوں۔ مگر مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کا ادراک ابھی اس درجہ کو نہیں پہنچا ہے کہ وہ ہمارے مشن کی آزادانہ رہنمائی کر سکیں۔ اس کی ایک مثال ان کا مذکورہ بالا خط ہے۔

یہ سطریں لکھتے ہوئے مذکورہ ساتھی کو شاید سورہ آل عمران کی وہ آیتیں یاد نہ تھیں جو غزوہ احد سے

‹ Previous page Next page › Contents of May 2025 All issues

Printed page