Al-Risala · May 2025 · page 45

یکم جولائی 1986

الرسالہ، مئی ۲۰۲۵، صفحہ ۴۵

ایک ہی اقعہ ہے۔ مگر کیسی عجیب بات ہے کہ اس میں ایک شخص نے خدا کو پایا اور دوسرے شخص نے اپنے آپ کو۔

یکم جولائی 1986

کیلی گولا (Caligula) چوتھا رومی شہنشاہ تھا۔ اس نے 37ء سے لے کر 41ء تک حکومت کی۔ مورخین عام طور پر اس کی بری تصویر پیش کرتے ہیں۔ اس نے بہت سے لوگوں کا قتل کرا دیا۔ اس نے عجیب عجیب احکامات نافذ کئے۔ حتیٰ کہ کچھ مورخین اس کو پاگل کہتے ہیں۔ اگرچہ انسائیکلو پیڈیا برطانیہ کا مقالہ نگار کا کہنا ہے کہ اس کے پاگل پن کی اکثر شہادتیں غیر ثابت شدہ ہیں: Much of the evidence of his alleged madness has been آخرکار ایک فوجی افسر نے اس کو قتل کر دیا۔

کیلی گولا کے عجیب عجیب کاموں میں سے ایک یہ بتایا جاتا ہے کہ وہ ایک بار اپنے تمام لوگوں سے بگڑ گیا۔ اس نے کہا کہ تم سب کے سب نالائق ہو اور تم سے کہیں زیادہ بہتر یہ میرا گھوڑا ہے۔ اس کا ایک گھوڑا تھا، جس کا نام انسی ٹیٹس (Incitatus) تھا۔ اس نے اپنے اس گھوڑے کوروم کا گورنر بنا دیا۔ کیلی گولا سوار اور سواری میں فرق نہ کر سکا۔ ورنہ اسے معلوم ہوتا کہ گھوڑا سواری کرنے کے لیے بلاشبہ سمجھدار ہے، مگر وہ سوار بننے کے لیے سمجھدارنہیں۔

یہی معاملہ انسانوں کا بھی ہے۔ کچھ لوگ مدرس یا مقرر کی حیثیت سے لائق ہو سکتے ہیں، لیکن اگر ان کو قوم کا قائد بنا دیا جائے تو عین ممکن ہے کہ اس دوسرے میدان میں وہ اتنے ہی نااہل ثابت ہوں، جتنا وہ درس اور تقریر کے میدان میں اہل نظر آرہے ہیں۔

2 جولائی 1986

قرآن کی تفسیر و حدیث سے کرنا بہت اچھی بات ہے۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ جب ایک مفسر کسی آیت کے ذیل میں ایک حدیث نقل کر دے تو اس کا مطلب لازماً یہ ہو جائے گا کہ حدیث کے مطابق اس آیت کی تفسیر یہی ہے۔ کیونکہ ایسی حدیثیں بہت کم ہیں جو براہ راست طور پر کسی آیت کی

‹ Previous page Next page › Contents of May 2025 All issues

Printed page