Al-Risala · May 2025 · page 46

3 جولائی 1986

الرسالہ، مئی ۲۰۲۵، صفحہ ۴۶

تفسیر میں آئی ہوں۔ زیادہ تر ایسا ہوتا ہے کہ مفسر اپنے خیال کے مطابق آیت کا ایک مفہوم سمجھتا ہے اور اس کے مطابق حدیثیں اس کے ذیل میں نقل کر دیتا ہے۔

مثلاً سورہ مزمل کی ایک آیت ہے: (اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْکَ قَوْلًا ثَقِیْلًا 73:5)- یعنی، ہم تم پر ایک بھاری بات ڈالنے والے ہیں۔ اس آیت میں قول ثقیل کی تشریح کرتے ہوئے مفسر ابن کثیر نے وہ حدیثیں نقل کر دی ہیں جن کا تعلق نزول وحی کی کیفیت سے ہے۔ مثلاً صحیح البخاری کی دوسری حدیث کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جب قرآن نازل ہوتا تو وہ آپ پر سخت بوجھ پڑتا۔ حتیٰ کہ سردی کے زمانہ میں بھی آپ کی پیشانی سے پسینہ ٹپکنے لگتا (وَلَقَدْ رَأَیْتُهُ يُنْزَلُ عَلَيْهِ فِي الْيَوْمِ الشَّدِيدِ الْبَرْدِ، فَيَفْصِمُ عَنْهُ وَإِنَّ جَبِينَهُ لَيَتَفَصَّدُ عَرَقًا) تفسیر ابن کثیر، جلد 7، صفحہ 406۔ نزول وحی کی یہ کیفیت بذات خود صحیح ہے اور وہ روایات سے ثابت ہے۔ مگر سورہ مزمل کی مذکورہ آیت کا تعلق اس سے نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس آیت میں قول ثقیل سے مراد وہ شہادت علی الناس کی ذمہ داری ہے جو اگلی سورہ (المدثر) میں ان الفاظ میں مذکور ہے: (قُمْ فَأَنْذِرْ 74:2)- یعنی، اٹھو اور لوگوں کو آگاہ کر۔ خدائی پیغام سے لوگوں کو آگاہ کرنا بلاشبہ اس دنیا کا مشکل ترین کام ہے۔ اسی لیے اس کو قول ثقیل سے تعبیر کیا گیا ہے۔

3 جولائی 1986

ایک صاحب نے اپنے ایک رشتہ دار کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ بہت بہادر ہیں۔ مثلاً انھوں نے بتایا کہ ایک بار وہ پرانی دہلی کی کسی سڑک پر کھڑے تھے کہ ان کے پاس سے ایک سائیکل سوار گزرا۔ اس کی سائیکل سے کیچڑ اڑ کر مذکورہ صاحب کے کپڑے پر آگیا۔ انھوں نے سائیکل والے کو روکا، ابھی وہ اس سے بات ہی کر رہے تھے کہ مذکورہ رشتہ دار نے "اس کو ایک ہاتھ لگا دیا"۔ مگر یہ اس وقت کی بات ہے جب کہ مذکورہ رشتہ دار صاحب اولاد نہیں ہوئے تھے۔ بعد میں ان کی شادی ہوئی، اور بچے ہوئے، تو مذکورہ صاحب کے الفاظ میں، "اب ان کے بچوں نے ان کو بز دل بنا دیا۔ " بچوں کے بعد کا واقعہ ہے، محلہ کے ایک شخص نے مذکورہ رشتہ دار سے بدتمیزی کی۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2025 All issues

Printed page