Al-Risala · July 2025 · page 29

He was the only man in history who was supremely

الرسالہ، جولائی ۲۰۲۵، صفحہ ۲۹

پیغمبر اسلام کو اپنی 23 سالہ پیغمبرانہ زندگی میں بار بار فریق ثانی کی طرف سے ظلم اور مخالفت کا سامنا پیش آیا۔ لیکن آپ نے کبھی رد عمل (reaction) کا طریقہ اختیار نہیں کیا۔ آپ نے ہر موقع پر، ظلم اور مخالفت کے باوجود، منفی رد عمل کے بجائے حکمت پر مبنی منصوبہ بندی کی۔ آپ نے کبھی بھی ٹکراؤ کا راستہ اختیار نہیں کیا، بلکہ ہر حال میں مثبت انداز اپنایا۔

مثلاً قدیم مکہ کے لوگوں نے آپ کو وطن چھوڑنے پر مجبور کیا۔ آپ نے اس کو ٹکراؤ کا ایشو نہیں بنایا۔ بلکہ ٹکراؤ سے ہٹ کر از سر نو اپنے عمل کی مثبت منصوبہ بندی کی۔ اسی طرح فریق ثانی نے احد کی جنگ چھیڑی ۔ اس میں آپ کے ساتھی تقریباً ستر کی تعداد میں قتل کر دیے گئے۔ لیکن اس کے بعد آپ نے جوابی طور پر کوئی جنگی کارروائی نہیں کی۔ بلکہ حالات کو پر امن طور پر پنج کرتے ہوئے فریق ثانی سے حدیبیہ کے مقام پر امن کا دس سالہ معاہدہ کر لیا، وغیرہ۔ یہی پالیسی آپ کی پوری زندگی جاری رہی۔

پیغمبر اسلام کا مشن ایک پر امن مشن تھا۔ وہ انسان کی خیر خواہی پر مبنی تھا۔ یعنی لوگوں کو اللہ کی رحمت اور جنت کے راستے سے باخبر کرنا۔ اس پر امن مشن میں لوگوں سے نفرت اور تشدد کرنے کی کوئی جگہ نہیں تھی۔ چنانچہ آپ نے ایک با اصول انسان کی حیثیت سے یہ کیا کہ ہر صورت حال کا مثبت جواب (positive response) دیا۔ آپ کا طریقہ یہ تھا ۔ ظلم کے بدلے میں معافی ،تشدد کے جواب میں امن، دشمنی کے جواب میں معتدل تعلقات۔ یہی طریقہ آپ کے مشن کے شایان شان تھا، اور اسی طریقے نے آپ کو تاریخ کی عظیم کامیابی عطا کی۔

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم امت مسلمہ کے لیے نمونہ ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ امت مسلمہ کو بھی اپنے معاملے میں اسی نمونے کو اختیار کرنا چاہیے۔ یہی کامیابی کا طریقہ ہے۔ کوئی اور طریقہ کامیابی کا طریقہ نہیں۔ اس طریقے میں کامیابی کا راز اس لیے ہے کہ یہی طریقہ فطرت کے مطابق ہے، اور جو طریقہ فطرت کے مطابق ہو، اس دنیا میں کامیابی اسی طریقے کی پیروی سے حاصل ہوتی ہے۔ اس دنیا میں کوئی دوسرا طریقہ کامیابی کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2025 All issues

Printed page