Al-Risala · July 2025 · page 30

خیر کا راستہ

الرسالہ، جولائی ۲۰۲۵، صفحہ ۳۰

خیر کا راستہ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: لَا يُؤْمِنُ الْعَبْدُ الْإِيْمَانَ كُلَّهُ، حَتَّى يَتْرُكَ ... المِرَاءَ وَإِنْ كَانَ صَادِقًا (مسند احمد، حدیث نمبر 8766)۔ یعنی، ایک انسان مکمل ایمان کے درجہ کو نہیں پہنچ سکتا، یہاں تک کہ وہ بیجا تکرار کو ترک کر دے اگرچہ وہ سچائی پر ہو۔

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے ایک اور روایت ان الفاظ میں آئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أَنَا زَعِيْمٌ بِبَيْتٍ فِي رَبَضِ الْجَنَّةِ لِمَنْ تَرَكَ الْمِرَاءَ وَإِنْ كَانَ مُحِقًّا (سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 4800)۔ یعنی، میں اس آدمی کے لیے جنت کے اطراف میں ایک گھر کی ضمانت لیتا ہوں جو بیجا بحث کو ترک کر دے اگرچہ وہ حق پر ہو۔

غور سے دیکھا جائے تو یہی وہ طرز عمل ہے جو انسانی سماج کو ایک پُرامن سماج بناتا ہے۔ "جنت کے اطراف میں ایک گھر "سے مراد ممکنہ طور پر اسی قسم کا گھر ہو سکتا ہے، جس کا تصور آج کے دور میں فارم ہاؤس وغیرہ کی شکل میں کیا جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2025 All issues

Printed page