وطن سے محبت ایک فطری حقیقت
الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۵، صفحہ ۷
وطن سے محبت ایک فطری حقیقت
حضرت عمر فاروق نے ایک بار فرمایا کہ اللہ نے ملکوں کو حب الوطنی کے ذریعہ آباد کر رکھا ہے: عَمَّرَ اللَّهُ البُلْدَانَ بِحُبِّ الأَوْطَانِ (التذكرة لابن حمدون البغدادی، اثر نمبر 407)۔ اس قول میں ایک فطری حقیقت کو بتایا گیا ہے ۔ یہ انسان کی فطرت میں شامل ہے کہ اس کو اپنے وطن سے محبت ہو۔ اسی محبت کے زور پر بستیاں اور شہر آباد ہوتے ہیں۔ اب اگر اس حقیقت کو سامنے رکھا جائے کہ یہ فطرت خود خدا کی پیدا کی ہوئی ہے تو حب وطن بھی ایک ایمانی صفت نظر آئے گی، کیوں کہ ایمان فطرت انسانی ہی کا ایک مظہر ہے۔ "حُبُّ الوَطَنِ مِنَ الإِيمَانِ" (وطن سے محبت ایمان کا جزء ہے) اگرچہ حدیث رسول نہیں۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ اس میں جو بات کہی گئی ہے، وہ بذات خود ایک درست بات ہے۔ (ڈائری، 29 فروری 1996)
رسول اللہ کی وطن سے محبت
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم جب مجبورانہ طور پر مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ جانے لگے تو اُس وقت آپ نے مکہ کی طرف دیکھ کر فرمایا: وَاللَّهِ إِنَّكِ، لَخَيْرُ أَرْضِ اللَّهِ، وَأَحَبُّ أَرْضِ اللَّهِ إِلَيَّ، وَاللَّهِ لَوْلَا أَنِّي أُخْرِجْتُ مِنْكِ، مَا خَرَجْتُ (سنن ابن ماجه، حدیث نمبر 3108)۔ یعنی، اے مکہ، تو مجھے دنیا بھر میں سب سے زیادہ عزیز ہے۔ مگر تیرے باشندے مجھے یہاں رہنے نہیں دیتے۔ بعد کو جب مکہ فتح ہوا تو آپ کے لیے پورا موقع تھا کہ آپ مکہ کو دوبارہ اپنی قیام گاہ بنالیں۔ مگر آپ مدینہ واپس چلے گئے اور آخر عمر تک وہیں رہے۔ حتی کہ آپ کی وفات کے بعد مدینہ ہی میں آپ کی قبر بنائی گئی۔
اس سے معلوم ہوا کہ مکہ کے بارے میں آپ کا مذکورہ جملہ شرعی نوعیت کا جملہ نہ تھا۔ اگر اس کی حیثیت شرعی ہوتی تو یقیناً آپ فتح کے بعد مکہ میں رہ جاتے۔ مگر مکہ پر قبضہ کے باوجود آپ کا مدینہ چلے
‹ Previous page Next page › Contents of September 2025 All issues