Al-Risala · September 2025 · page 8

نیشنلزم اور حب الوطنی

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۵، صفحہ ۸

جانا ثابت کرتا ہے کہ یہ جملہ شرعی نہ تھا، بلکہ وہ وطنی محبت کے جذبہ کے تحت نکلا ہوا ایک جملہ تھا۔ (ڈائری، 12 نومبر 1996)

عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ آپ کا یہ ارشاد اس لیے تھا کہ مکہ ایک مقدس شہر ہے، مگر میں سمجھتا ہوں کہ آپ کا یہ ارشاد وطن کے جذبے کے تحت تھا۔ یہ اسی جذبے کا اظہار تھا جو ہر انسان کے اندر اپنے وطن کو چھوڑتے وقت پیدا ہوتا ہے۔ بعد کے زمانے میں مسلمانوں میں نعت گوئی کا رواج ہوا۔ ان نعتوں میں ہمیشہ مدینہ کی عظمت بیان کی جاتی ہے ۔ میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ ان نعتوں میں مکہ کی عظمت بیان کی جاتی ہو۔ اگر مکہ مطلق طور پر مقدس شہر ہو تو ان نعتوں میں مکہ کی تعریف ہونی چاہیے تھی ، نہ کہ مدینہ کی۔ (ڈائری، 14 ستمبر 2006)

نیشنلزم اور حب الوطنی

1971 کے نصف اول کا واقعہ ہے۔ میں نے بذریعہ ٹرین پاکستان (لاہور اور فیصل آباد) کا سفر کیا۔ جب میں ہندوستانی سرحد پار کیا اور دوسری جانب پہنچا تو میرے قلی نے ایک فوجی افسر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ میجر صاحب آپ کو بلا رہے ہیں۔ اس کے بعد قلی نے مجھے ایک بند فوجی خیمے کے اندر پہنچا دیا۔ وہاں ایک پاکستانی فوجی افسر بیٹھا ہوا تھا۔ اس خیمے میں صرف ہم دو آدمی تھے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب کہ بنگلہ دیش کی جنگ کی تیاریاں ہو رہی تھیں۔ اس مسئلہ کی وجہ سے انڈیا اور پاکستان میں سخت تناؤ پیدا ہو گیا تھا۔

اس خیمہ میں پاکستانی فوج کے افسر نے مجھ سے ایسی گفتگو شروع کی جو میرے نزدیک انڈیا کے نیشنل انٹرسٹ کے خلاف تھی۔ مثلاً آورو دی فوجی افسر نے مجھ سے کہا کہ انڈیا کے کچھ فوجی راز بتائیے۔ کچھ دیر تک میں برداشت کرتے ہوئے اس کی باتیں سنتا رہا۔ پھر میں نے کہا میجر صاحب، آپ مجھ سے یہ سمجھ کر بات کیجئے کہ میں انڈیا کا ایک وفادار شہری ہوں۔ اس کے بعد میں نے تقریباً پندرہ منٹ تک نہایت سخت انداز میں اس کے سامنے تقریر کی۔ میں جانتا تھا کہ اس وقت اگر وہ مجھے

‹ Previous page Next page › Contents of September 2025 All issues

Printed page