Al-Risala · September 2025 · page 14

حب الوطنی

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۵، صفحہ ۱۴

راقم الحروف کا خیال یہ ہے کہ یہ قول اگر کلام رسول کے طور پر ثابت شدہ نہ ہو، تب بھی وہ حدیث فطرت ہے۔ جو آدمی وطن کی محبت کو فطرت کا جزء نہ سمجھتا ہو، وہ جانتا ہی نہیں کہ فطرت کیا چیز ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وطن سے محبت انسانی فطرت کا ایک لازمی تقاضا ہے، اور فطرت کا تقاضا ہونا ہی اس بات کے لیے کافی ہے کہ حب الوطنی (patriotism) کو اسلام کا ایک حصہ سمجھا جائے۔ اسلام جب دین فطرت (religion of nature) ہے تو فطرت بشری کی ہر چیز اسلام کا حصہ قرار پائے گی۔ میں نے کہا کہ اسلام دین فطرت ہے اس لیے فطرت انسانی کا ہر صحیح تقاضا بھی عین اسلام کا تقاضا ہے۔ مثال کے طور پر حدیث میں کہیں یہ نہیں آیا ہے کہ حبُّ الأم مِنَ الإيمان (ماں کی محبت ایمان کا حصہ ہے)۔ اس کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ ہر مسلمان اس کو اپنا فرض سمجھتا ہے کہ اس کے دل میں اپنی ماں سے محبت ہو۔ جس آدمی کے دل میں اپنی ماں کی محبت نہ ہو، وہ اپنے ایمان میں بھی کامل نہ ہوگا۔ کیونکہ فطرت اور ایمان میں کوئی تضاد نہیں۔

اسی طرح وطن سے محبت بھی بلاشبہ ہر مسلمان کے لیے ایک ایمانی تقاضے کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ آدمی جس ملک میں پیدا ہوا، جہاں اُس کی پرورش ہوئی، جہاں کی ہوا میں اس نے سانس لیا، جہاں کے لوگوں سے اس کے تعلقات قائم ہوئے، جہاں اُس نے اپنی زندگی کی تعمیر کی، ایسے ملک سے محبت کرنا انسانی شرافت کا تقاضا ہے، اور اسی طرح وہ انسان کے ایمان و اسلام کا بھی تقاضا ۔ میں نے کہا کہ جو چیز فطرت انسانی کا جزء ہو، اس کو قرآن وحدیث میں لکھنے کی ضرورت نہیں، وہ قرآن وحدیث میں لکھے بغیر ہی شریعت کا ایک لازمی جزء ہے۔ قرآن وحدیث میں یہ حکم نہیں دیا گیا کہ اے مسلمانو، تم اپنی ماں سے محبت کرو۔ کیونکہ یہ چیز حکم کے بغیر اپنے آپ ہی فطرت کے زور پر حاصل تھی ۔ اسی طرح قرآن وحدیث میں یہ لکھنے کی ضرورت بھی نہیں کہ اے مسلمانو، تم اپنے وطن سے محبت کرو۔ کیونکہ وطن سے محبت انسانی شرافت کا تقاضا ہے، وہ انسان ایک پست انسان ہے جس کے دل میں اپنے وطن کے لیے محبت نہ ہو۔ ایسے گہرے فطری تقاضے کے لیے شریعت میں کسی لفظی حکم کی ضرورت نہیں، وہ اپنے آپ ہر مومن کے دل میں پہلے ہی سے موجود ہوتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2025 All issues

Printed page