Al-Risala · September 2025 · page 15

حب الوطنی

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۵، صفحہ ۱۵

یہاں ایک معاملہ کی وضاحت ضروری ہے۔ بعض انتہا پسند ہندو لیڈروں نے لکھا ہے کہ ہندوستان کے عیسائی اور مسلمان سچے محب وطن نہیں ہو سکتے۔ اس لیے کہ محب وطن ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اس وطن یا اس جغرافی خطہ کو آدمی مقدس سمجھتا ہو، جہاں وہ پیدا ہوا ہے۔ ہندو چونکہ اپنے وطن (ماتر بھومی) کو مقدس سمجھتا ہے، اور اس کو معبود کا درجہ دیتا ہے۔ اس لیے وہی بھارت کا سچا محب وطن (دیش بھگت) ہے۔ عیسائی اور مسلمان چونکہ اپنے مخصوص عقیدہ کی بنا پر زمین یا کسی زمینی خطہ کو معبود کی طرح مقدس نہیں سمجھ سکتے، اسی لیے وہ بھارت کے سچے دیش بھگت بھی نہیں ہو سکتے۔ یہ ایک بے بنیاد بات ہے۔ اگر کوئی شخص اپنے خود ساختہ عقیدہ کی بنا پر اپنی ماں کو معبود مان لے، اور اس کی پرستش کرنے لگے، تو اس بنا پر اس کو یہ کہنے کا لائسنس نہیں مل جائے گا کہ اس کے سوا بقیہ لوگ اپنی ماں سے محبت نہیں کرتے، کیونکہ وہ اپنی ماں کو معبود نہیں سمجھتے۔ کسی شخص یا گروہ کو بلاشبہ یہ آزادی حاصل ہے کہ وہ اپنی ماں کو یا اپنے وطن کو معبود سمجھنے لگے۔ مگر کسی قانون یا اصول کی بنا پر ایسے لوگوں کو یہ حق نہیں دیا جا سکتا کہ وہ دوسروں کے بارے میں یہ حکم لگائیں کہ وہ اپنی ماں کو یا اپنے وطن کو معبود مانیں، ورنہ وہ نہ اپنی ماں سے محبت کرنے والے قرار پائیں گے، اور نہ اپنے وطن سے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے معاملات کا تعلق عالمی سطح پر مانے ہوئے رواج سے ہے، نہ کہ کسی شخص یا گروہ کے اپنے مفروضہ سے۔ عالمی اور بین الاقوامی سطح پر جب یہ مان لیا گیا ہے کہ قومیت کی بنیاد وطن پر ہے، اور وطن سے مراد معروف معنوں میں جغرافی وحدت (geographical unity) ہے، نہ کہ پر اسرار معنوں میں تقدیسی وحدت (religious unity)۔ اس لیے حب الوطنی (patriotism) کا معیار ہر ایک کے لیے یہی ہوگا۔ البتہ ہر ایک کو یہ آزادی حاصل رہے گی کہ وہ اس کے علاوہ کوئی اور عقیدہ پسند کرتا ہو تو اس کو اپنے لیے اختیار کرلے۔ (الرسالہ، ستمبر 1998) مسلمانوں کی قومیت آزادی سے پہلے برصغیر ہند میں قومیت کے مسئلہ پر دو نقطہ نظر تھے۔ ایک اقبال کا۔ اُن کا

‹ Previous page Next page › Contents of September 2025 All issues

Printed page