Al-Risala · September 2025 · page 16

ایک غیر حقیقی سوچ

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۵، صفحہ ۱۶

کہنا تھا کہ قومیت کا تعلق مذہب سے ہے۔ دوسرا نظریہ مولانا حسین احمد مدنی کا تھا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں قومیں اوطان سے بنتی ہیں۔ یعنی عقیدہ کا تعلق مذہب سے ہے اور قومیت کا تعلق وطن سے۔ میرے نزدیک مولانا حسین احمد مدنی کا نظریہ درست تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ مذہب کے اعتبار سے ساری دنیا کے مسلمانوں کا ایک مذہب ہے۔ مگر جہاں تک قومیت کا سوال ہے، اس کا تعلق وطن (homeland) سے ہے، یعنی جس مسلم گروہ کا جو وطن ہے وہی اُس کی قومیت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہندوستان جیسے ملک پر اگر کوئی مسلم ملک حملہ کرے تو یہ حملہ مسلمانوں کے مذہب پر حملہ نہیں ہوگا بلکہ اُن کے مشترک وطن پر حملہ قرار پائے گا۔ وطن کے خلاف جارحیت کے معاملہ میں مسلمان بھی اُسی طرح دفاع کریں گے جس طرح اُن کے غیر مسلم برادران وطن کریں گے، خواہ یہ حملہ بظاہر کسی مسلم ملک نے کیا ہو یا غیر مسلم ملک نے۔ (الرسالہ اگست، 2000، جودھ پور کا سفر)

ایک غیر حقیقی سوچ

علامہ اقبال کی ایک نظم ہے، جس کا عنوان ہے، وطنیّت۔ اس میں وہ کہتے ہیں کہ : تہذیب کے آزر نے ترشوائے صنم اور اس کے بعد ان کا اگلا شعر یہ ہے :

ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے جو پیرہن اس کا ہے، وہ مذہب کا کفن ہے یہ نظم کلیاتِ اقبال کے بانگِ درا میں شامل ہے۔ اقبال کے اس شعر کا اسلام کی تعلیمات سے کوئی تعلّق نہیں۔ موجودہ دنیا میں قومیت (nationhood) کو مبنی بر وطن (homeland based) چیز سمجھا جاتا ہے۔ میرے نزدیک اس تصور میں اور اسلام میں کوئی ٹکراؤ نہیں، مگر اقبال

‹ Previous page Next page › Contents of September 2025 All issues

Printed page