Al-Risala · September 2025 · page 38

یہ اسلام نہیں

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۵، صفحہ ۳۸

روش ہے کہ امریکا کی شہریت لے کر وہاں کی مادی سہولتوں سے فائدہ اٹھایا جائے اور جب امریکا کو کوئی قومی لڑائی پیش آئے تو اس لڑائی میں امریکا کا ساتھ نہ دیا جائے۔ آج کل اُمہ کا جو تصور مسلمانوں میں پھیلا ہوا ہے، مجھے اس سے اتفاق نہیں۔ میرے نزدیک مسلمان اپنے مذہب کے اعتبار سے عالمی امت ہیں۔ مگر وطن کے اعتبار سے ان کی وفاداریاں اسی طرح اپنے وطن کے ساتھ ہونی چاہئیں، جس طرح دوسری قوموں کے لوگ اپنے مذہب کے اعتبار سے الگ تشخص رکھنے کے باوجود وطنی معاملات میں بقیہ اہل وطن کے ساتھ ہوتے ہیں۔ (ڈائری، 26 مارچ 2003)

ایک مثال

بی بی سی لندن پر ہندی خبروں کے پروگرام کے تحت ہر روز ایک آئٹم ہوتا ہے جس کا مستقل عنوان یہ ہے: بات ایک سفر کی اس آئٹم کے تحت 13 نومبر 2003 کو جو واقعہ بیان کیا گیا وہ یہ تھا۔ سمستی پور (بہار) کے ایک صاحب، مشتاق خان نے بتایا کہ وہ اپنی بہن سے ملنے کے لیے کراچی (پاکستان) گئے۔ یہ سفر انھوں نے ستمبر 1991 میں کیا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ وہ واہگہ بارڈر سے ٹرین کے ذریعہ روانہ ہوئے۔ جب وہ پاکستانی سرحد (اٹاری) پر پہنچے تو بعض مسافروں نے بتایا کہ موجودہ پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف نے اعلان کیا ہے کہ ہندوستان سے آنے والے مسافروں کی کسٹم کی چیکنگ نہیں کی جائے گی۔ یہ سن کر مشتاق خان صاحب بہت خوش ہوئے۔

مگر جب 11 ستمبر 1991 کو ان کی ٹرین لاہور ریلوے اسٹیشن پر پہنچی تو معاملہ بالکل مختلف تھا۔ یہاں کسٹم کا سرکاری عملہ ان لوگوں کے اوپر ٹوٹ پڑا اور نہایت سختی کے ساتھ ان کی جانچ کرنے لگا۔ مشتاق خان صاحب نے پریشان ہو کر کچھ کہا تو کسٹم کا ایک آدمی ان پر برس پڑا۔ اس نے تحقیری انداز میں کہا کہ تم تو شکل ہی سے ہندوستانی نظر آتے ہو۔ مشتاق خاں صاحب نے اس کا جواب ان الفاظ میں دیا

‹ Previous page Next page › Contents of September 2025 All issues

Printed page