یہ اسلام نہیں
الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۵، صفحہ ۳۹
کہ ہم ہندوستانیوں کے چہرے سے نور ٹپکتا ہے، اور تم پاکستانیوں کے چہرے سے پھٹکار ٹپکتی ہے۔ یہ واقعہ ہندوستان کے عام مسلمانوں کے جذبات کو بتاتا ہے۔ عام مسلمان جو ہندوؤں کے ساتھ مل جل کر رہتے ہیں ان کے دلوں میں ہندوستان کے بارے میں اسی قسم کے جذبات ہیں۔ مگر مسلمانوں کے نام نہاد لیڈر اور مسلمانوں کی نام نہاد اردو صحافت کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ انہی لوگوں کی وہ منفی تحریریں اور منفی تقریریں وہ مسئلہ پیدا کرتی ہیں جس کی بنا پر کٹر ہندوؤں کو یہ کہنے کا موقع ملتا ہے کہ ہندوستان کے مسلمان محب وطن نہیں۔ (ڈائری، 13 نومبر 2003) برادرانِ وطن کے ساتھ حسنِ سلوک دو صاحبان ملاقات کے لیے آئے۔ یہ مسلمان تھے، اور برطانیہ میں رہتے ہیں۔ گفتگو کے دوران میں نے ان سے کہا کہ مسلمان کو اپنے وطن سے محبت ہونا چاہیے ۔ برطانی مسلمانوں کو برطانیہ سے اور امریکی مسلمانوں کو امریکہ سے۔ انھوں نے کہا کہ اگر وہاں کے لوگ ہم سے نفرت کریں، تب بھی ہم ان سے محبت کریں۔ میں نے کہا کہ ہاں۔ پھر میں نے ان کو یہ حدیث سنائی:
لَا تَكُونُوا إِمَّعَةً، تَقُولُونَ: إِنْ أَحْسَنَ النَّاسُ أَحْسَنَّا، وَإِنْ ظَلَمُوا ظَلَمْنَا، وَلَكِنْ وَطِّنُوا أَنْفُسَكُمْ، إِنْ أَحْسَنَ النَّاسُ أَنْ تُحْسِنُوا، وَإِنْ أَسَاءُوا فَلَا تَظْلِمُوا (سنن الترمذی ، حدیث نمبر (2007)۔ یعنی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ اِمعہ نہ بنو، یہ کہنے لگو کہ لوگ اچھا سلوک کریں گے تو ہم بھی اچھا سلوک کریں گے۔ اور لوگ ظلم کریں گے تو ہم بھی ان کے ساتھ ظلم کریں گے۔ بلکہ اپنے آپ کو اس کا خوگر بناؤ کہ لوگ اچھا سلوک کریں تب بھی تم اچھا سلوک کرو اور لوگ برا سلوک کریں تو تم ان کے ساتھ ظلم نہ کرو۔
اس سے معلوم ہوا کہ اسلامی اخلاق ٹٹ فار ٹیٹ (tit for tat) کا اخلاق نہیں۔ اسلامی اخلاق یک طرفہ حسنِ سلوک کے اصول پر مبنی ہے ۔ (ڈائری، 28 جولائی 2011)
‹ Previous page Next page › Contents of September 2025 All issues