Al-Risala · September 2025 · page 40

نیشنل کیریکٹر

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۵، صفحہ ۴۰

نیشنل کیریکٹر

بھارتیہ ودیا بھون ہندوستان کا ایک بہت بڑا تعلیمی اور اشاعتی ادارہ ہے۔ اس کی دعوت پر نومبر 1993 میں میرا ایک سفر بمبئی ( موجودہ ممبئی ) کے لیے ہوا۔ اس سفر کا مقصد یہ تھا کہ بھارتیہ ودیا بھون نے ایک خصوصی جلسہ منعقد کیا تھا، جس میں مجھے شرکت اور خطاب کی دعوت دی گئی تھی۔ اس جلسے میں، میں نے اپنی آدھ گھنٹے کی تقریر میں دو باتوں پر خاص طور پر زور دیا۔ ایک، ہندو مسلم ملاپ۔ اور دوسرے، نیشنل کیریکٹر۔ ہندو مسلم ملاپ کی اہمیت کو بتاتے ہوئے میں نے کہا کہ اسی اتحاد کی خاطر مہاتما گاندھی نواکھلی ( بنگلہ دیش ) چلے گئے تھے۔ وہاں کے قیام کے دوران 5 دسمبر 1946ء کو انھوں نے لکھا کہ میرا موجودہ مشن میری زندگی کا بہت مشکل اور بہت پیچیدہ مشن ہے۔ میں اس کی خاطر سب کچھ جھیلنے کے لیے تیار ہوں۔ یہ کرو یا مرو کا امتحان ہے۔ اس وقت کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہندو اور مسلمان دونوں امن کے ساتھ رہنا سیکھیں۔ ورنہ میں اسی راہ میں مر جاؤں گا: نیشنل کیریکٹر کے سلسلہ میں میں نے کہا کہ نیشنل کیریکٹر یہ ہے کہ نیشن ( ملک ) کے ان ٹرسٹ کو سپریم بنایا جائے۔ جہاں ملک کا انٹرسٹ آجائے وہاں ذاتی ان ٹرسٹ کو سکینڈری بنا دیا جائے۔ ( بمبئی کا سفر، نومبر 1993 )

سچی دیش بھکتی

کچھ لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ گفتگو کے دوران دیش بھکتی کا ذکر ہوا۔ یہ سوال آیا کہ سچا دیش بھگت کون ہے اور اس کی پہچان کیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2025 All issues

Printed page