Al-Risala · September 2025 · page 41

Peaceful resolution of conflicts.

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۵، صفحہ ۴۱

میں نے پوچھا، کیا آپ جانتے ہیں کہ ماں کو بھی اپنے بیٹے سے محبت ہوتی ہے، اور تاجر کو بھی اپنے گا ہک سے محبت ہوتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہاں، یہ تو سبھی جانتے ہیں۔ پھر میں نے پوچھا کہ کیا آپ کسی ماں کو جانتے ہیں جو اپنے بیٹے کی محبت میں روئی ہو۔ انھوں نے کہا کہ ایسی تو سبھی مائیں ہوتی ہیں۔ کسی ماں کے بیٹے پر کوئی سنکٹ پڑے تو اس کی خبر جب ماں کو ہوگی تو اس کی آنکھ سے آنسو ضرور نکل آئے گا۔ میں نے کہا کہ اچھا یہ بتائیے کہ کیا آپ ایسے تاجروں کو جانتے ہیں جو اپنے گا ہک کے لیے روتے ہوں۔ انھوں نے جواب دیا کہ ایسا کوئی تاجر تو ہم کو نہیں معلوم۔ میں نے کہا کہ اب میں سوال بدل کر ایک اور بات آپ سے پوچھتا ہوں۔ آپ سب لوگ الگ الگ پارٹیوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہر پارٹی کے لیڈر اپنے بارے میں دیش بھگت ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ کیا آپ میں سے کوئی بتا سکتا ہے کہ اس کی پارٹی کے لیڈروں میں کون کون لیڈر ہیں جو دیش کی حالت پر روتے ہوں۔ سب نے کہا کہ ایسا کوئی لیڈر ہم کو نہیں معلوم۔ دیش بھگتی کا دعویٰ تو سبھی کرتے ہیں مگر دیش کے لیے کوئی بھی نہیں روتا۔

میں نے کہا کہ اب میرا فیصلہ سنیے۔ جو آدمی دیش کے درد میں روئے وہ سچا دیش بھگت ہے۔ اور جو آدمی صرف دیش کے نام پر تقریر کرے وہ بناوٹی دیش بھگت۔ (بمبئی کا سفر، نومبر 1993) قومی شعور اور وطن کی تعمیر دیش کی ترقی کے لیے بلاشبہ ایک پروگرام درکار ہے۔ مگر پروگرام سے پہلے وہ افراد درکار ہیں جو اس پروگرام کو دل کی آمادگی کے ساتھ اختیار کریں۔ میں نے کہا کہ اس وقت ہندوؤں اور مسلمانوں میں یہ شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ اختلافات ہر سماج میں ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ اختلاف اور شکایت کے باوجود مل جل کر رہنا سیکھیں۔ ہمارے دیش کے مسئلے کا حل وہی ہے جو کسی نے کہا کہ اختلافی باتوں کو پر امن طور پر طے کر لینا:

Peaceful resolution of conflicts.

‹ Previous page Next page › Contents of September 2025 All issues

Printed page