اتحاد اور ایثار
الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۵، صفحہ ۴۲
اس مقصد کے لیے ہمیں intensive awareness programme جاری کرنا ہوگا۔
(سیواگرام کا سفر ، مارچ 1993)
اتحاد اور ایثار
بھارت و کاس پریشد کی دعوت پر 31 مارچ 1995 کو بھیل واڑہ ، راجستھان کا سفر ہوا۔ یہ ایک غیر سیاسی ادارہ ہے۔ یہ لوگ تعمیری کاموں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کا ماٹو ہے: راشٹر نرمان - ویکتی نرمان۔ یعنی ، فرد کی تعمیر سے ملک کی تعمیر ہوتی ہے۔ ان کے پروگراموں کے چار اجزاء یہ ہیں : سیوا ، سنسکار، سہیوگ، سمپرک۔
سوچنا کیندر ( انفارمیشن سنٹر ) میں نوجوانوں کی ایک میٹنگ ہوئی۔ تمہیدی تقریروں کے بعد مجھے موقع دیا گیا۔ میں نے اپنے خطاب میں کہا کہ دو باتیں اگر ہمارے اندر آ جائیں تو ملک کی ترقی کو کوئی روک نہیں سکتا۔ آج کل یہ حال ہے کہ لوگ دیش سے صرف لینا جانتے ہیں، دیش کو دینا نہیں جانتے۔ یہ مزاج نہ صرف ملک کے لیے نقصان دہ ہے، بلکہ طویل مدت کے اعتبار سے خود افراد کے لیے نقصان کا باعث ہے۔ ہمیں یہ کرنا ہوگا کہ ذاتی مفاد کے مقابلہ میں دیش کے مفاد کو اونچا رکھیں۔ دوسری چیز یہ ہے کہ اس ملک کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہندو مسلم جھگڑا ہے۔ یہ جھگڑا تمام تر غلط فہمی پر مبنی ہے۔ ایمرجنسی کے زمانہ میں جب ہندوؤں اور مسلمانوں کو گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا گیا اور وہاں دونوں ایک ساتھ رہے تو ہر ایک نے محسوس کیا کہ ایک دوسرے کے بارے میں ان کے خدشے بے بنیاد تھے۔ ہندوؤں اور مسلمانوں میں اگر کسی طرح صرف اختلاط بڑھ جائے تو تمام غلط فہمیاں اپنے آپ ختم ہو جائیں گی ۔ (راجستھان کا سفر)
ایک سینیر سیٹیزن کی زبانی
میری پیدائش یکم جنوری 1925ء کو یوپی میں ہوئی ۔ میں برٹش انڈیا میں پیدا ہوا، اور اب اس کے ایک سینیر سیٹیزن کی حیثیت سے آزاد انڈیا میں پہنچ گیا ہوں۔ میری پیدائش ایک ایسے گھرانے
‹ Previous page Next page › Contents of September 2025 All issues