Al-Risala · September 2025 · page 43

ایک سینیر سیٹیزن کی زبانی

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۵، صفحہ ۴۳

میں ہوئی، جو فریڈم فائٹر کی حیثیت رکھتا تھا۔ میرے بڑے بھائی اقبال احمد خاں سہیل (ایم اے، ایل ایل بی) ایڈوکیٹ (1955-1884) ایک شاعر تھے۔ انھوں نے اپنی ایک نظم میں کہا تھا: غلط ہے یہ کہ فقط ہندوؤں کا لیڈر تھا کہ تھا تمام جہاں بھر کا رہنما گاندھی اقبال احمد خاں سہیل نے 1936 کے یوپی کے الیکشن میں حصہ لیا تھا، اور الیکشن جیت کر یوپی اسمبلی کے ممبر بنے تھے۔ اس کے بعد جب میں بڑا ہوا، تو مجھے سوامی وویکانندا (1902-1863) کی کتاب لیٹرز آف وویکانندا پڑھنے کو ملی۔ اس کتاب کے لیٹر نمبر 271 میں سوامی وویکانند نے اپنے ایک فرینڈ کو ایک خط مورخہ 10 جون 1898 میں لکھا تھا۔ اس خط میں سوامی وویکانند نے آزاد انڈیا کے بارے میں اپنے ویژن کو ان الفاظ میں بیان کیا تھا:

For our own motherland a junction of the two great systems, Hinduism and Islam—Vedanta brain and Islam body—is the only hope. I see in my mind's eye the future perfect India rising out of this chaos and strife, glorious and invincible, with Vedanta brain and Islam body. (Letters of Swami Vivekananda, Letter No. 271, p. 427)

انھیں سہانی یادوں کے ساتھ میرے دن گزرتے رہے۔ میں اپنے دائرے میں آزادی کی سرگرمیوں میں شریک رہا۔ مثلاً میں نے آزادی سے پہلے متو (یوپی) جا کر جواہر لال نہرو (1964-1889) کی تقریر سنی۔ مجھے یاد ہے کہ لوگ ٹرینوں اور بسوں کی چھت پر بیٹھ کر متو پہنچے تھے۔ اسی طرح میں نے پھول پور (اعظم گڑھ) کے ایک جلسہ میں شریک ہو کر سبھاش چندر بوس (1945-1897) کی تقریر سنی۔ جیسا کہ معلوم ہے کہ سبھاش چندر بوس نے آزاد ہند فوج 1942 میں بنائی تھی۔ ان کا نعرہ یہ تھا: Give me blood, and I will give you freedom. اسی طرح میں نے ایک سوشلسٹ اجتماع (gathering) میں شریک ہو کر جے پرکاش نارائن (1979-1902) کی تقریر سنی۔ یہ جلسہ اعظم گڑھ میں ہوا تھا۔ جیسا کہ معلوم ہے جے پرکاش نارائن بعد کو لوک نائک کے خطاب سے مشہور ہوئے۔ اس طرح میری نوجوانی کے دن گزر رہے تھے۔ یہاں تک کہ 15 اگست 1947 کا دن آ گیا۔ 15 اگست 1947 کی رات کو میں نے وہ

‹ Previous page Next page › Contents of September 2025 All issues

Printed page