Al-Risala · September 2025 · page 44

Today, India is free

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۵، صفحہ ۴۴

تاریخی تقریر تو نہیں سنی، جس میں اس وقت کے وائسرائےلارڈ ماؤنٹ بیٹن (1979-1900) نے رات کو 12 بج کر ایک منٹ پر آل انڈیا ریڈیو سے اعلان کیا تھا:

Today, India is free

میں وائسرائے کی تقریر کو ریڈیو پر تو نہیں سن سکا، لیکن بہت سے دوسرے لوگوں کی طرح میں نے اگلے دن صبح کو اخبار میں پڑھا۔ 15 اگست 1947ء کو میں اعظم گڑھ میں تھا۔ مجھے یاد ہے کہ رات کے وقت جب میں اپنی قیام گاہ سے باہر نکلا، اور شہر کی سڑکوں پر پہنچا تو میرے چاروں طرف خوشی کے دیے جل رہے تھے۔ پورا شہر روشنی میں ڈوبا ہوا تھا۔

اب وہ روشنی بجھ چکی ہے، لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سب لوگ مل کر ایک نئے دور کے آغاز کا دیا جلائیں— وہ ہے انڈیا کی نئی تعمیر کا دور۔ وہ دور جس کا خواب سوامی وویکانند نے دیکھا تھا۔ وہ دور جس کی یاد میں مہاتما گاندھی نے اپنی جان دے دی۔ وہ دور جس کا آخری صفحہ لکھنے کے لیے شاید انڈیا کا مؤرخ انتظار کر رہا ہے۔

میں اب 90 پلس ہو چکا ہوں۔ لیکن میری امیدیں ابھی تک باقی ہیں۔ میرا معمول ہے کہ میں روزانہ صبح کو اپنے کمرے سے نکل کر باہر بیٹھ جاتا ہوں، اور صبح کے سورج کے نکلنے کا انتظار کرتا رہتا ہوں۔ مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ 15 اگست پر ہونے والے ایک پروگرام میں میں نے کسی شاعر کی زبان سے سنا تھا:

برج محن سے نکلا سورج روشن اپنا مستقبل ہے

میں روزانہ طلوع سورج (sunrise) کا منظر اس امید سے دیکھتا ہوں کہ شاید آج کی صبح وہی صبح ہو، جس کے اشتیاق میں ایک فریڈم فائٹر نے ایک کتاب لکھی تھی، جس کا ٹائٹل تھا: روشن مستقبل۔ میں ہر دن نکلنے والے سورج کا استقبال ان الفاظ میں کرتا ہوں— وہ صبح کبھی تو آئے گی، وہ صبح کبھی تو آئے گی ۔

انڈیا نے پیس فل اسٹرگل (peaceful struggle) کے ذریعے اپنی تاریخی آزادی حاصل کی تھی۔ اب انڈیا کی تعمیر نو کا کام بھی صرف پیس فل اسٹرگل کے ذریعے انجام دیا جا سکتا ہے۔ انڈیا نے پیس فل اسٹرگل کے ذریعے آزادی حاصل کر کے ایک تاریخ بنائی تھی، اب دوبارہ وقت آ گیا

‹ Previous page Next page › Contents of September 2025 All issues

Printed page