Al-Risala · September 2025 · page 45

برج محن سے نکلا سورج روشن اپنا مستقبل ہے

الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۵، صفحہ ۴۵

ہے کہ انڈیا کی تعمیر نو کا کام پیس فل اسٹرگل کے ذریعے انجام دیا جائے۔ انڈیا کی طاقت پہلے بھی امن تھی، آج بھی امن (peace) ہے، اور آئندہ بھی امن ہی اس کی طاقت بنی رہے گی۔ 15 اگست 2020 کو انڈیا نے اپنا چوہترواں (74th) یوم آزادی منایا۔ اب آخری وقت آگیا ہے کہ ہم آزاد انڈیا کی حیثیت سے اپنا رخ متعین کریں۔ یوم آزادی ہمارے لیے ٹرینڈ سیٹر (trend-setter) ہونا چاہیے۔ موجودہ سال، یعنی 2020ء کو ہمیں ٹرینڈ سیٹر سال کے طور پر منانا چاہیے۔ سوچ سمجھ کر ہمیں آخری طور پر یہ طے کرنا چاہیے کہ آزادنیشن کی حیثیت سے ہمارا نشانہ کیا ہے۔ سوامی وویکانند نے کہا تھا کہ انڈیا کے بارے میں ان کا خواب یہ ہے کہ آزادی کے بعد انڈیا سپر پچول سوپر پاور بن کر ابھرے۔ انڈیا پوٹینشل طور پر بلاشبہ اسپر پچول سوپر پاور ہے۔ اس پوٹینشل کو ایکچول بنانے کے لیے صرف ایک چیز کی ضرورت ہے، اور وہ ہے جمہوری نظام کے تحت متحد ہو کر کوشش کرنا۔

میں 90 پلس ہوں، اس لحاظ سے مجھے زندگی کا لمبا تجربہ ہوا ہے۔ میں اپنے تجربے کی روشنی میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ انڈیا کے ڈیولپمنٹ کے لیے صرف ایک ہی ورکیبل ماڈل ہے۔ وہ وہی فطری ماڈل ہے، جس کو امریکن ماڈل کہا جا سکتا ہے۔ امریکن ماڈل فری کمپटीशन پر بیس (base) کرتا ہے، یعنی ایسا ماحول پیدا کرنا، جس میں میرٹ کی بنیاد پر کسی کو ترقی حاصل ہو، نہ کہ فیور (favour) کی بنیاد پر۔ ترقی کے لیے اصل چیز کمپٹیشن ہے، نہ کہ فیور۔ امریکہ میں ہر میدان میں یہ اصول ہے کہ کمپٹیٹ یا پیرش (compete or perish)، یعنی مقابلہ کرو، یا ختم ہو جاؤ۔ عام زبان میں اس کو کرو یا مرو (do or die) کہا جاتا ہے۔

فطرت کے قانون کے مطابق، اس دنیا میں کوئی گروہ فیور (favour) کے ذریعے ترقی نہیں کر سکتا۔ وہ صرف مقابلہ (competition) میں اپنے آپ کو اہل ثابت کر کے کامیاب ہو سکتا ہے۔ کمپٹیشن ہے، جو انسان کو مین (man) سے اٹھا کر سپر مین (super-man) بناتی ہے۔ کیوں کہ خالق نے اس دنیا کو چیلنج۔ رسپانس (challenge-response) کے اصول پر بنایا ہے۔ فرد کی ترقی یا سماج کی ترقی کا راز یہ ہے کہ فطرت کو آزادانہ طور پر کام کرنے کا موقع دیا

‹ Previous page Next page › Contents of September 2025 All issues

Printed page