برج محن سے نکلا سورج روشن اپنا مستقبل ہے
الرسالہ، ستمبر ۲۰۲۵، صفحہ ۴۶
جائے۔ اس کے سوا ہر دوسرا اصول انسان کا خود ساختہ اصول ہوگا، جو کبھی عمل میں آنے والا نہیں۔ یہی ماڈل نیچرل ماڈل ہے۔ کمپیٹیشن کا ماڈل مائیوٹیٹنگ ماڈل (motivating model) ہے۔ اس کے برعکس، نہرو نے رشین ماڈل کو اختیار کیا، جس کو وہ سوشلسٹ ماڈل کا نام دیتے تھے۔ مگر عملاً یہ ماڈل ڈی مائیوٹیٹنگ ماڈل (demotivating model) ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم اس ماڈل کو اختیار کریں، جو مائیوٹیشن پر مبنی ہے، اور اس ماڈل کو مکمل طور پر چھوڑ دیں، جو عملاً ڈی مائیوٹیشن کا ماڈل بن جاتا ہے۔ اب آخری وقت آگیا ہے کہ ہم انڈیا کے ڈیولپمنٹ کی ری پلاننگ کریں۔
انڈیا میں امریکا کے سابق سفیر جان گالبریتھ (,John Kenneth Galbraith 1908-2006) نے ایک مرتبہ اپنے ایک بیان میں کہا تھا— انڈیا ایک فنکشننگ انارکی ہے (India is a functioning anarchy)۔ میں اس بیان کو کریٹیسزم کے طور پر نہیں لیتا، بلکہ چیلنج کے طور پر لیتا ہوں، اور یہ دعا کرتا ہوں کہ انڈیا ایک آئیڈیل ڈیموکریسی بنے۔ (الرسالہ، اکتوبر، 2020)
سوال وجواب سوال آپ کا ایک خط ’ماہنامہ تذکیر‘ کے مئی 2004 (نیز الرسالہ، مئی 2004) کے شمارے میں شائع ہوا ہے جو آپ نے عبد السلام اکبانی صاحب (ناگپور) کو لکھا ہے۔ اس میں آپ نے اُس تقریر کا حوالہ دیا ہے جو آپ نے دہلی میں کانسٹی ٹیوشن کلب کے ایک سیمینار میں کی۔ اس میں آپ نے دو قومی نظریے کو علامہ اقبال اور جناح صاحب کے ذہن کی پیداوار قرار دیا اور یہ دلیل دی کہ ہر پیغمبر نے اپنے زمانے کے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے ’’اے میری قوم‘‘ کہا۔ یعنی حاضرین کا عقیدہ یا مذہب چاہے الگ الگ ہو، ایک بستی یا ایک جغرافیائی وحدت میں رہائش پذیر ہونے کی وجہ سے وہ ایک قوم تھے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2025 All issues