Al-Risala · January 2025 · page 34

زوال امت

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۵، صفحہ ۳۴

زوال امت

امت کا زوال کیا ہے، حدیثوں میں پیشگی طور پر اس کے بارے میں بتا دیا گیا ہے۔ ان احادیث کو عام طور پر احادیثِ فتن کہا جاتا ہے۔ احادیثِ فتن دراصل احادیث برائے زوالِ امت ہی کا دوسرا نام ہے۔ دورِ فتنہ سے مراد امت کا دورِ زوال ہے۔ یہ زوالِ فطرت کے قانون کے تحت آتا ہے، اور کسی امت کا اس معاملے میں استثنا نہیں۔

امتِ موسیٰ کو امتِ افضل کہا گیا تھا۔ مگر ان پر زوال آیا۔ اسی طرح امتِ محمد کو خیر امت کہا گیا، لیکن فطرت کے قانون کے مطابق، خیر امت پر بھی زوال کا دور آنا یقینی ہے۔ امت پر دورِ زوال آنے کا مطلب کیا ہے۔ قرآن کے الفاظ میں اس سے مراد یہ ہے کہ طولِ امد کے نتیجہ میں افرادِ امت کے اندر قساوت کا دور آ جانا (57:16)۔ یعنی امت کی بعد کی نسلوں میں افراد کے اندر دین کے بارے میں حساسیت ختم ہو جائے، اور اس بنا پر وہ دین کے قشر (shell) کو دین کا مغز (kernel) سمجھنے لگے۔ حدیث میں اس حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ بعد کے لوگوں میں تم دیکھو گے کہ ان کی مسجدوں میں نمازیوں کی بھیڑ ہوگی، لیکن ان کے دل ہدایت سے خالی ہوں گے (مَسَاجِدُهُمْ يَوْمَئِذٍ عَامِرَةٌ، وَهِيَ خَرَابٌ مِنَ الْهُدَى) شعب الايمان للبيهقی، حديث نمبر 1908۔ احادیث کے مطالعے سے مزید یہ معلوم ہوتا ہے کہ امت مسلمہ کا زوال پچھلی امتوں سے بھی زیادہ ہوگا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ بعد کے زمانے میں مادی ترقیاں ہوں گی، مال کی فراوانی ہوگی، اور لوگوں کا یہ حال ہو جائے گا: وَأَنْ تَرَى الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ الْعَالَةَ رِعَاءَ الشَّاءِ يَتَطَاوَلُونَ فِي الْبُنْيَانِ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 8)۔ یعنی تم یہ دیکھو گے کہ ننگے پاؤں، ننگے بدن والے، غریب، بکریوں کے چرانے والے، اونچی عمارتوں پر فخر کریں گے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جو لوگ غربت کی حالت میں ہوں گے، وہی لوگ غربت کے باوجود بڑی بڑی عمارتیں بنائیں گے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ قدیم زمانے میں یہ حال تھا کہ بادشاہ لوگ بڑے بڑے محل بنایا کرتے تھے، لیکن بعد کے زمانے میں مال کی اتنی زیادہ فراوانی ہوگی کہ عام لوگ بھی شاہی ساز و سامان کے حامل ہو جائیں گے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2025 All issues

Printed page