Al-Risala · January 2025 · page 35

زوال امت

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۵، صفحہ ۳۵

احادیثِ فتن کی ان باتوں کو میں اس وقت سمجھا جب کہ میں پہلی بار امریکا گیا۔ وہاں میرا قیام کیلی فورنیا میں تھا۔ ایک دن ایک نوجوان مجھ کو اپنی نئی بڑی گاڑی پر لے گئے تا کہ مجھ کو وہاں کا ڈزنی لینڈ (Disneyland) دکھائیں۔ میں نے نوجوان سے پوچھا کہ آپ تو جلد ہی امریکا آئے ہیں، پھر آپ کے لیے کیسے ممکن ہوا کہ آپ ہر قسم کے اعلیٰ سامان اپنے لیے حاصل کر لیں۔ انھوں نے جواب دیا کہ یہ امریکا کے اقتصادی سسٹم کا کرشمہ ہے۔ آپ امریکا آئیں، اور یہاں آپ کے لیے ایک بڑی کمپنی میں جاب حاصل ہو جائے تو اس کے بعد ہر چیز آپ لون (loan) کے ذریعہ حاصل کر سکتے ہیں، اور اس کی ادائیگی ہر ماہ آپ کی سیلری سے کٹ کر براہ راست لون کمپنی کے اکاؤنٹ میں جاتی رہے گی۔ اس سسٹم کے تحت آپ یہاں ہر چیز حاصل کر سکتے ہیں۔ مثلاً ماڈرن اسٹائل کے شاندار مکان، بڑی گاڑی، فریج اور واشنگ مشین، موبائل فون، کمپیوٹر و لیپ ٹاپ، وغیرہ۔ حتیٰ کہ عیش و عشرت کے وہ سامان جن کا پہلے زمانے میں بادشاہ لوگ بھی خواب نہیں دیکھ سکتے تھے، وہ یہاں قرض کے ذریعہ ایک عام آدمی حاصل کر سکتا ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ آپ کے پاس ایک اچھا جاب موجود ہو۔ اس کلچر نے جو سب سے بڑی برائی پیدا کی، وہ ہے جنون کی حد تک ہائی اسٹیٹس کا حصول، اور اس کے لیے کسی بھی حد تک جانے سے پس و پیش نہ کرنا۔ یہ کلچر پہلے اعلیٰ ترقی یافتہ ملکوں میں شروع ہوا، اب دنیا کے تقریباً ہر ملک میں اس کا رواج ہو چکا ہے۔ اس رواج کا نتیجہ ہے کہ آج کے اس مادی دور میں اگرچہ ایک مذہبی انسان خدا کو اپنا معبود مانتا ہے، لیکن عملاً اس کا زیادہ بڑا کنسرن مادی اعتبار سے ہائی اسٹیٹس کا حصول ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ مذہبی لوگوں نے اپنی مادہ پرستی کے لیے ایسے طریقے اختیار کر لیے ہیں، جو بظاہر دینی عمل لگتے ہیں، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ مثلاً عالیشان مسجدوں کی تعمیر، پیغام نکاح کی تقریب، رمضان میں انواع و اقسام کے کھانے کی دھوم، وغیرہ۔ ظاہری دینداری کے اس کلچر کا سبب ہے کہ لوگوں نے دین کے مغز کو چھوڑ کر قشر کو اپنا اصل دین سمجھ لیا ہے۔ ایک انسان بظاہر مذہبی نظر آتا ہے، مگر اس کا دل تقویٰ اور خشوع سے خالی ہوتا ہے۔ کیوں کہ مغز دین کے لیے سب سے پہلے اپنی ذات کے اعتبار سے قربانی دینی پڑتی ہے، یعنی خواہشات نفس کی قربانی۔ اس کے برعکس، قشر کے لیے زیادہ محنت کی ضرورت نہیں ہوتی، وہ بڑی قربانی کے بغیر پیسہ کے ذریعہ بڑی آسانی سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2025 All issues

Printed page