رسول کو ماننا
الرسالہ، نومبر ۲۰۲۵، صفحہ ۱۱
رسول کو ماننا
احد کی جنگ میں جب ایک غلطی سے مسلمانوں کو شکست ہوئی تو لوگ ادھر ادھر منتشر ہوگئے۔ تاہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انتہائی عزم و توکل کے ساتھ اپنی جگہ قائم رہے۔ آپ کے ساتھ پندرہ افراد بھی تیروں اور تلواروں کی بارش میں جمے رہے۔ اس وقت ایک مشرک عبداللہ بن قمیہ نے آپ پر پتھر سے حملہ کیا۔ یہ دیکھ کر آپ کے ساتھیوں میں سے حضرت مصعب بن عمیر اس کی طرف بڑھے۔ دونوں میں جنگ ہوئی ۔ عبداللہ بن قمیہ نے حضرت مصعب بن عمیر کو قتل کر دیا۔ اس نے سمجھا یہ خود رسول اللہ تھے، اور اس نے آپ کو اپنی تلوار سے ہلاک کر دیا ہے۔ چنانچہ وہ یہ کہنے لگا: قَتَلْتُ مُحَمَّدًا (میں نے محمد کو قتل کر دیا)۔ یہ خبر پھیلی تو مسلمانوں میں سے جو لوگ ادھر ادھر بکھر گئے تھے، وہ بھی اس سے متاثر ہوئے (سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 78-73)۔
حضرت عبداللہ بن عباس کی ایک طویل روایت ہے۔ اس میں یہ الفاظ آئے ہیں کہ کچھ اہل نفاق نے کہا کہ اگر محمد قتل کر دیے گئے ہیں تو اب پہلے دین میں شامل ہو جاؤ۔ اس موقع پر سچے اہل ایمان نے ثابت قدمی کا ثبوت دیا۔ مثلاً حضرت انس بن نضر نے کہا: یَا قَوْمِ إِنْ كَانَ مُحَمَّدٌ قَدْ قُتِلَ، فَإِنَّ رَبَّ مُحَمَّدٍ لَمْ يُقْتَلْ (تاریخ الطبری، جلد 2، صفحہ 520)۔ یعنی، اے لوگو، اگر محمد قتل کر دیے گئے ہیں تو محمد کا رب تو قتل نہیں ہوا۔
حضرت ثابت بن الدحداحہ نے کہا: إِنْ كَانَ مُحَمَّدٌ قَدْ قُتِلَ فَإِنَّ اللَّهَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ! فَقَاتِلُوا عَنْ دِينِكُمْ، فَإِنَّ اللَّهَ مُظْهِرُكُمْ وَنَاصِرُكُمْ (مغازی الواقدی، جلد 1، صفحہ 281)۔ یعنی، اگر محمد قتل کر دیے گئے تو اللہ، بیشک زندہ ہے، تم اپنے دین کے لیے قتال کرو، اللہ تم لوگوں کا ہے۔ ایک روایت کے مطابق ایک انصاری نے کہا: اِنْ کَانَ مُحَمَّدُ قَدْ قُتِلَ فَقَدْ بَلَّغَ ، فَقَاتِلُوا عَنْ دِيْنِکُمْ (اگر محمد قتل کر دیے گئے ہیں تو وہ اپنا دین پہنچا چکے تو اب تم اس دین کے لیے لڑو)۔ اس پس منظر میں قرآن کی یہ آیت اتری:
‹ Previous page Next page › Contents of November 2025 All issues