Al-Risala · January 2025 · page 36

فوق الفطری حکم

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۵، صفحہ ۳۶

فوق الفطری حکم

قرآن میں آیا ہے : اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوۡۤا اِلَّا اِيَّاهُ ذٰلِكَ الدِّيۡنُ الْقَيِّمُ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوۡنَ ( 12:40)۔ یعنی حکم صرف اللہ کے لیے ہے۔ اس نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ یہی سیدھا دین ہے۔ مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔

اس آیت میں حکم کا لفظ بطور خبر ہے، جب کہ عبادت کا لفظ بطور انشاء ہے۔ خبر کا مطلب ہے، کسی ہونے والے واقعہ کے بارے میں انفارمیشن دینا، اطلاع کرنا۔ اور انشاء کا مطلب ہے، کسی بات کے کرنے یا نہ کرنے کا مطالبہ کرنا یا حکم دینا۔ اس آیت میں یہ خبر دی گئی ہے کہ کائنات میں فوق الفطری اقتدار (supernatural sovereignty) صرف اللہ کا ہے، اور وہ ازل سے ابد تک قائم ہے، اور بحیثیت مقتدر اعلیٰ اس کا امر یہ ہے کہ انسان اپنے اختیاری ارادہ کے تحت صرف اسی کی عبادت کرے، اس کے علاوہ کسی اور کی عبادت نہ کرے۔ قرآن کی اس آیت سے حکومت الہیہ کا نظریہ نکالنا سراسر بے بنیاد ہے۔ یہ خبر کو انشاء بنانے کے ہم معنی ہے۔ ایسا کرنا مذموم تفسیر بالرائے کی ذیل میں آتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ اللہ کا حکم ساری کائنات میں بالفعل قائم ہے، نہ کہ انسان اس کو قائم کرے۔ یہ کائنات میں جاری ایک فطری قانون کی خبر دی جارہی ہے۔ اب انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اللہ رب العالمین کو دریافت کرے۔ اس کی دریافت اتنی زیادہ گہری ہو کہ وہ اَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ (صحیح البخاری ، حدیث نمبر 50) کا کیس بن جائے۔ یعنی تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو، گویا کہ تم اس کو دیکھ رہے ہو ۔ بات صرف عبادت کی حد تک نہ ہو، بلکہ وہ اپنی پوری زندگی اسی میں جینے لگے۔ قرآن کے مطابق، اس کی نماز، اس کی قربانی ، اس کا جینا، اور اس کا مرنا، سب کا سب اللہ رب العالمین کے لیے ہو جائے ( 6:162)۔ وہ ہر چیز میں اللہ کی کار فرمائی کا مشاہدہ کرے، وہ کامل معنوں میں اللہ کا عبد بن جائے۔ اس کے لیے اللہ کا معاملہ صرف رسمی عقیدہ کا معاملہ نہ رہے، بلکہ اللہ اس کے لیے ایک زندہ عقیدہ کا معاملہ بن جائے، جیسا کہ آیت الکرسی میں بیان کیا گیا ہے۔ آیت الکرسی ایک لمبی آیت ہے اس کا ترجمہ یہ ہے:

‹ Previous page Next page › Contents of January 2025 All issues

Printed page